خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 349

خطبات مسرور جلد 13 349 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء وہ بھی غلط مطلب کے ساتھ ، جس نے توحید پر تو کسی کو کیا قائم کرنا ہے یہ لوگ دنیا کو مذہب سے اور اسلام سے متنفر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔پس ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آنا ضروری تھا تا کہ وہ ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنا ئیں اور آپ نے ایک انقلاب پیدا کر کے دکھا بھی دیا۔ایک مشہور ڈاکو تھا اور دوسرے چھوٹے ڈاکو اور چور وغیرہ اس کو بھتہ دیا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ان سے لوگ پوچھتے تھے کہ تم مرزا صاحب کی صداقت کا نشان بتاؤ۔کوئی نشان تم نے دیکھا؟ تو انہوں نے کہا تم اور کیا نشان پوچھتے ہو ئیں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان ہوں اور یہ ثبوت ہوں کہ میری کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔چوروں سے تعلق کٹ گیا اور ڈا کے ختم ہو گئے اور عبادات میں مشغول ہو گیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 319) پس آپ نے بھی اس زمانے میں نئی زمین اور نیا آسمان بنایا اور لاکھوں انسانوں کی کایا پلٹ کر بتایا کہ یوں نئی زمین اور نئے آسمان بنتے ہیں۔آپ علیہ السلام نے تو نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کر کے دکھا دیا اور بہت سارے نمونے ہم نے دیکھے۔ہم نشانات دیکھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں اور پڑھتے بھی ہیں۔اپنے بزرگوں کی حالتوں کو دیکھ کر ، ان سے سن کر مزید ایمانوں میں تازگی بھی پیدا ہوتی ہے۔لیکن اس کشف میں نئی زمین اور نئے آسمان بنانے میں آپ علیہ السلام کی جماعت کو بھی تو جہ دلائی گئی ہے۔اس لئے اب یہ دیکھنا ہے کہ آپ کی جماعت کا حصہ بن کر آپ علیہ السلام کی بیعت میں آکر ہم کیا کوشش کر رہے ہیں کہ ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان پیدا کریں۔کیا صحابہ نے جو اسلام کی حقیقی تعلیم اپنائی اور اس کا اظہار کر کے نئی زمین اور نیا آسمان بنایا وہ معیار ہم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے نفسوں میں اتنا تغیر اور تبدیلی پیدا ہو گئے ہیں کہ لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ تو بالکل بدل گئے ہیں۔انہوں نے نیا آسمان اور نئی زمین بنا ڈالی ہے۔پس ہم نے اگر اس بات کی دلیل دینی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس طرح نئی زمینیں اور نیا آسمان بنایا تو اس کا سب سے بڑا ثبوت ہماری ذات ہونی چاہئے۔توحید کا قیام ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے میں ہماری کوشش ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی ہمیں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف ہماری توجہ رہنی چاہئے۔ہم