خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 346
خطبات مسرور جلد 13 346 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء رہتا ہے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے بھی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو مانا جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی محبت ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور دین کی محبت کے اسلوب سکھائے اور ان پر چلنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔جنہوں نے ہمیں مخلوق کے حق اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔جنہوں نے ہمیں فردی اور اجتماعی برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلائی۔قومی برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلائی۔انفرادی برائیوں سے بچنے کی طرف توجہ دلائی۔عملی اور اعتقادی حالتوں کو درست کرنے کی طرف توجہ دلائی۔پس اگر ہم آپ کی بیعت میں آ کر پھر بھی ان باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے تو ہم اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔انبیاء آتے ہیں اپنے ماننے والوں میں انقلاب پیدا کرنے کے لئے۔ان کی حالتوں کو بالکل مختلف صورت دینے کے لئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے کشفاً دکھایا کہ آپ نے نئی زمین اور نیا آسمان بنایا ہے۔پھر آپ نے کہا کہ آؤ انسان کو پیدا کریں۔(ماخوذ از تذکرہ صفحہ 154 ایڈیشن چہارم 2004 ء بحوالہ چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 376-375 حاشیہ ) یہ نئی زمین اور نیا آسمان بنانا اور انسان پیدا کرنا وہ انقلاب ہے جو آپ نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا تھا۔نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کا سب سے بڑھ کر اور کامل اور مکمل اظہار تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نظر آتا ہے۔آپ نے کس طرح نئی زمین اور نیا آسمان بنایا کہ توحید کے دشمنوں کو توحید پر قائم کر دیا۔وہی جو بتوں کو پوجنے والے تھے اور ایک خدا کے انکاری تھے وہ احد احد کہہ کر ہر طرح کے ظلم سہتے رہے۔جو تو حید کے قیام کے لئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن توحید سے انکار نہیں کیا۔جن کو خدا تعالیٰ کا تصور ہی نہیں تھا ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اس طرح اترا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر الہی مادی کھانے سے زیادہ ان کی غذا بن گئی۔انہوں نے دن کو روزوں اور راتوں کو نوافل میں گزارنا شروع کر دیا۔ان کی عورتوں نے بھی عبادت کے شوق اور خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنے کے لئے رات کی اپنی نیندوں کو حرام کر دیا اور عبادت کی خاطر اپنی نیندوں کو دور کرنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرنے کی کوشش کی۔ایک صحابیہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے ایک رسی چھت سے لٹکائی ہوئی تھی جس کو پکڑ