خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 345
خطبات مسر در جلد 13 345 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء شامل ہونے والے کو اس طریق پر گزارنا چاہئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا اور ہم سے توقع رکھی۔اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کریں اور دوسرے اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی محبت سے بھریں۔اپنے بھائیوں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھیں۔یہاں جلسے پر آ کر اگر کسی میں رنجشیں بھی ہیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔جب ہم اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کریں گے اور اس کی مخلوق سے ہمدردی کریں گے تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے پیغام کو حقیقی رنگ میں دنیا کو پہنچانے کا حق ادا کرنے والے بن سکیں گے۔لیکن ان تمام راستوں سے گزرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔محنت شرط ہے۔یہ جلسے اسی لئے منعقد کئے جاتے ہیں کہ روحانی ماحول سے، نیکی کی باتیں سننے سے، ذکر الہی کرنے سے ہم میں وہ عادتیں مستقل پیدا ہو جا ئیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: وو 66 یہ دنیا چند روزہ ہے اور ایسا مقام ہے کہ آخر فنا ہے۔اندر ہی اندر اس فنا کا سامان لگا ہوا ہے۔وہ اپنا کام کر رہا ہے مگر خبر نہیں ہوتی۔اس لئے خداشناسی کی طرف قدم جلد اٹھانا چاہئے۔خدا تعالیٰ کا مزا اُسے آتا ہے جو اسے شناخت کرے۔اور جو اس کی طرف صدق و وفا سے قدم نہیں اٹھاتا اُس کی دعا کھلے طور پر قبول نہیں ہوتی اور کوئی نہ کوئی حصہ تاریکی کا اسے لگا ہی رہتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف ذراسی حرکت کرو گے تو وہ اس سے زیادہ تمہاری طرف حرکت کرے گا۔لیکن اول تمہاری طرف سے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔“ پھر فرمایا: ”بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں۔نماز بھی پڑھی، روزے بھی رکھے، صدقہ خیرات بھی دیا، مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا۔تو ایسے لوگ شقی از لی ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خدا تعالیٰ کے لئے کئے ہوتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے لئے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ضائع ہو اور خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی زندگی میں نہ دیوے۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 230-229) پس اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ہمیں خالص ہو کر اس کی عبادت بھی کرنی ہوگی اور اس کے احکامات پر عمل کرنا ہو گا۔ہمارا کام اگر خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوگا تو ہم اس کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنیں گے۔ہمیں دنیاوی تاریکی سے نکل کر خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ وہ ہماری اصلاح کے لئے اپنے فرستادے، اپنے پیارے بھیجتا