خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 17
خطبات مسرور جلد 13 17 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء لڑکے میں احمدی ہونے کے بعد بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔جب سے یہ احمدی ہوا تھا اس نے تہجد شروع کر دی تھی۔باقاعدگی سے صبح تین بجے اس کے کمرے کی لائٹ جل جاتی تھی اور جب میں اس کو احمدیت کی وجہ سے برا بھلا کہتی تھی تو شہید مرحوم کی والدہ بھی جوابا ناراضگی کا اظہار کرتی تھیں۔اس پر شہید مرحوم اپنی والدہ سے کہا کرتے تھے کہ یہ باتیں تو اب ہمیں سننا پڑیں گی۔ابھی ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس سے سنا کہ مخالفین تمہیں جو کہیں تم نے صبر کرنا ہے اور شہید نے یہی بات حالانکہ والدہ غیر احمدی تھیں ان کو کہی کہ میری وجہ سے تم کو یہ باتیں سننی پڑیں گی۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ان کے خاندان کو بھی احمدیت کے نور سے فیضیاب ہونے کی توفیق دے۔رفیع بٹ صاحب ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ شہادت سے ایک ہفتہ قبل ربوہ میں میرے پاس آئے اور پورا وقت جماعت کی خوشحالی اور ترقی کی باتیں کرتے رہے۔ان کے اندر دعوت الی اللہ کا جنون تھا۔میں انہیں محلہ باب الابواب میں ایک دوست کے پاس لے گیا۔وہاں حوالہ جات کی کاپیاں وغیرہ دیکھ کر ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور اپنے موبائل میں کافی حوالہ جات کی تصویر میں لیں اور کہا کہ میں جلد واپس آؤں گا اور ان کے پاس جو قیمتی خزانہ ہے اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔لقمان شہزاد صاحب کی خاص بات یہ تھی کہ وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی روحانیت بہت ترقی کر گئی تھی۔ان کی مجلس میں بیٹھنے کے بعد ہر فرد ایک نیا جوش وجذ بہ لے کر اٹھتا تھا۔الماس محمود ناصر صاحب مربی سلسلہ کہتے ہیں کہ لقمان صاحب اس گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں خاکسار بعد تحمیل تعلیم جامعہ پہلی مرتبہ تعینات ہوا۔لقمان صاحب خاکسار کے پاس دیر تک بیٹھے رہتے حالانکہ انہوں نے ابھی بیعت بھی نہیں کی تھی۔علمی مسائل پوچھنے کے ساتھ ساتھ وہ جماعت سے اس قدر قریب ہو چکے تھے کہ دوران گفتگو خود کو جماعت احمدیہ کا فرد ہی سمجھتے اور احمدی اور غیر احمدی کے فرق پر بات کے دوران وہ اپنا ذ کر بطور احمدی کرتے۔بوقت بیعت کم عمری کے باوجود بہت ہی بلند حوصلہ نوجوان تھے۔ماریں بھی کھائیں جیسا کہ بتایا گیا اور ان پر بڑاد باؤ ڈالا گیا۔لکھتے ہیں کہ جب ان کو مسجد میں مارا گیا تو ڈنڈوں سے اور جور حلیں ہوتی ہیں، جن پر قرآن شریف رکھ کر پڑھا جاتا ہے ان سے بھی مارا گیا۔گن پوائنٹ پر اغوا بھی کیا گیا جہاں وہ ڈیرے