خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 327
خطبات مسرور جلد 13 327 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء خلاف کی وہ خود انہی کے آگے آتی گئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل کے ساتھ مجھے ہر موقع پر کامیابیوں کا منہ دکھایا یہاں تک کہ وہی لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت یہ کہتے تھے کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے، آپ کے مشن کی کامیابیوں کو دیکھ کر انگشت بدنداں نظر آتے ہیں۔پس جو شخص یہ عہد کر لیتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ کام میں نے ہی سرانجام دینا ہے اس کے رستے میں ہزاروں مشکلات پیدا ہوں، ہزاروں روکیں واقع ہوں، ہزاروں بند اس کے راستے میں حائل ہوں وہ ان سب کو عبور کرتا ہے اور اس میدان میں جا پہنچتا ہے جہاں کامیابی اس کے استقبال کے لئے کھڑی ہوتی ہے۔(اب جماعت کے افراد کے لئے سننے والی نصیحت ہے ) پس ہماری جماعت کے ہر شخص کو یہ عہد کر لینا چاہئے کہ دین کا کام میں نے ہی کرنا ہے۔اس عہد کے بعد ان کے اندر بیداری پیدا ہو جائے گی اور ہر مشکل ان پر آسان ہوتی جائے گی اور ہر عسر اُن کے لئے کیسر بن جائے گی۔( ہر تنگی ان کے لئے آسائش بن جائے گی۔) ان کو بیشک بعض تکالیف اور مصائب اور آلام سے بھی دو چار ہونا پڑے گا مگر وہ اس میں عین راحت محسوس کریں گے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ دین کی تکمیل کے لئے صرف تم ہی میرے مخاطب ہو۔تمہارے صحابہ اس کام میں حصہ لیں یا نہ لیں لیکن تم سے بہر حال میں نے کام لینا ہے۔یہی وجہ تھی کہ آپ رات دن اسی کام میں لگے رہتے تھے اور آپ کی ہر حرکت اور آپ کا ہر سکون اور آپ کا ہر قول اور ہر فعل اس بات کے لئے وقف تھا کہ خدا تعالیٰ کے دین کو دنیا میں قائم کیا جائے اور آپ اس بات کو سمجھتے تھے کہ یہ اصل میں میرا ہی کام ہے، کسی اور کا نہیں۔(ماخوذ از قومی ترقی کے دو اہم اصول، انوار العلوم جلد 19 صفحہ 75-74) اور یہی سنت ہے جس کو ہمیں اپنا نا ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور جماعت کی ترقی اور ہمارے فرائض کے بارے میں آپ نے اس طرح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی (جس کا ذکر ہو چکا ہے) اور میں نے آپ علیہ السلام کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی جس کا نتیجہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں۔ہزاروں لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجنے لگ گئے ہیں۔لیکن ان تمام نتائج کے باوجود یہ حقیقت ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا کی اس وقت سات ارب کے قریب آبادی ہے اور سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ