خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 326
خطبات مسرور جلد 13 326 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء بڑی ذمہ داری آپڑی ہے اور میں نے اسی وقت عہد کیا کہ الہی میں تیرے مسیح موعود کی لاش پر کھڑا ہو کر اقرار کرتا ہوں کہ خواہ اس کام کے کرنے کے لئے دنیا میں ایک بھی انسان نہ رہے پھر بھی میں کرتا رہوں گا۔اس وقت مجھ میں ایک ایسی قوت آ گئی کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔(ماخوذ از خطاب جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1919 ء، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 524-523 پھر اس کی ایک جگہ ذرا تفصیل بیان کرتے ہوئے اور جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ تکالیف اور مصائب سے گھبرانا نہیں چاہئے۔فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو میں نے لوگوں کی طرف سے اس قسم کی آوازیں سنیں کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔ایسا کہنے والے یہ تو نہیں کہتے تھے کہ نعوذ باللہ آپ جھوٹے ہیں مگر یہ کہتے تھے کہ آپ کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام اچھی طرح نہیں پہنچایا اور پھر آپ کی بعض پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہوئیں۔میری عمر اس وقت (جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے) انیس سال تھی۔میں نے جب اس قسم کے فقرات سنے تو میں آپ کی لاش کے سرہانے جا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے دعا کی کہ اے خدایہ تیرا محبوب تھا۔جب تک یہ زندہ رہا اس نے تیرے دین کے قیام کے لئے بے انتہا قربانیاں کیں۔اب جبکہ تو نے اسے اپنے پاس بلا لیا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔ممکن ہے ایسا کہنے والوں یا ان کے باقی ساتھیوں کے لئے اس قسم کی باتیں ٹھوکر کا موجب ہوں اور جماعت کا شیرازہ بکھر جائے۔اس لئے اسے خدا میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی تیرے دین سے پھر جائے تو میں اس کے لئے اپنی جان لڑا دوں گا۔اُس وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے اور یہی ایک چیز تھی جس نے انیس سال کی عمر میں ہی میرے دل کے اندر ایک ایسی آگ بھر دی کہ میں نے اپنی ساری زندگی دین کی خدمت پر لگا دی اور باقی تمام مقاصد کو چھوڑ کر صرف یہی ایک مقصد اپنے سامنے رکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس کام کے لئے تشریف لائے تھے وہ اب میں نے ہی کرنا ہے۔وہ عزم جو اس وقت میرے دل کے اندر پیدا ہوا تھا آج تک میں اس کونت نئی چاشنی کے ساتھ اپنے اندر پاتا ہوں اور وہ عہد جو اُس وقت میں نے آپ کی لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر کیا تھا وہ خضر راہ بن کر مجھے ساتھ لئے جاتا ہے۔میرا وہی عہد تھا جس نے آج تک مجھے اس مضبوطی کے ساتھ اپنے ارادے پر قائم رکھا کہ مخالفت کے سینکڑوں طوفان میرے خلاف اٹھے مگر وہ اس چٹان کے ساتھ ٹکرا کر اپنا ہی سر پھوڑ گئے جس پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا تھا اور مخالفین کی ہر کوشش ہر منصوبہ اور ہر شرارت جو انہوں نے میرے