خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 306 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 306

خطبات مسرور جلد 13 306 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا۔(سخت مشکل جگہ ہوتی تھی ) خالصا خدا کے لئے کھڑے ہوکر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔غرض جود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں وہ بھی خداوند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہوگی“۔آپ فرماتے ہیں اور خدا نے اس ذات مقدس پر انہیں معنوں کر کے وحی اور رسالت کو ختم کیا کہ سب کمالات اس وجود بالجود پر ختم ہو گئے۔وَهَذَا فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ“ ( براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 276 تا292 حاشیہ نمبر 11) پھر ایک عیسائی کے سوال پر وضاحت فرماتے ہوئے کہ روشنی اور نور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔سوال یہ تھا کہ مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہے میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندے ہو کہ میں تمہیں آرام دوں گا اور یہ کہ میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں۔میں زندگی اور راستی ہوں۔کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں“۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - (وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ) الخ (آل عمران : 32) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔“ ( فرمایا کہ) یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گزشتہ اقوال پر غالب ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔اسی لئے اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور رکھا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللهِ نُور (المائدة: 16 ) یعنی تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے۔“ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 372) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتی ہے، آپ مزید فرماتے ہیں کہ : ”اللہ تعالیٰ نے اپنا کسی کے ساتھ پیار کرنا اس بات سے