خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 305
خطبات مسرور جلد 13 305 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء کی سخت سخت ایذاؤں پر کیا تھا۔آفتاب کی طرح ان کے سامنے روشن ہو گیا (ایسا صبر تھا جو آفتاب کی طرح ان کے سامنے روشن ہو گیا) اور چونکہ فطرنا یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ اسی شخص کے صبر کی عظمت اور بزرگی انسان پر کامل طور پر روشن ہوتی ہے کہ جو بعد زمانہ آزارکشی کے اپنے آزار دہندہ پر قدرت انتقام پا کر اس کے گناہ کو بخش دے۔“ (یعنی کہ ایک لمبے زمانے تک آپ کو تکلیفیں دی گئیں لیکن فرمایا کہ اسی وقت اس کا اظہار ہو سکتا ہے صحیح صبر کا حقیقی صبر کا جب جس کو تکلیفیں دی جائیں اس کو جب بدلہ لینے پر، انتقام لینے پر قدرت حاصل ہو جائے ، طاقت حاصل ہو جائے تب وہ ساروں کے گناہ بخش دے۔تو یہ ہے اصل حقیقی صبر اور یہ نمونہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا ) فرمایا کہ اس وجہ سے مسیح کے اخلاق کہ جو صبر اور حلم اور برداشت کے متعلق تھے بخوبی ثابت نہ ہوئے اور یہ امر اچھی طرح نہ کھلا کہ مسیح کا صبر اور حلم اختیاری تھا یا اضطراری تھا کیونکہ مسیح نے اقتدار اور طاقت کا زمانہ نہیں پایا تا دیکھا جاتا کہ اس نے اپنے موذیوں کے گناہ کو عفو کیا یا انتقام لیا۔برخلاف اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ صدہا مواقع میں اچھی طرح کھل گئے اور امتحان کئے گئے اور ان کی صداقت آفتاب کی طرح روشن ہو گئی۔اور جو اخلاق کرم ، اور جو د اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت اور زہد اور قناعت اور اعراض عن الدنیا ( دنیا سے بے رغبتی) کے متعلق تھے، وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرت سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے۔سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک جبہ بھی خرچ نہ ہوا۔(اپنے آرام پر ایک پائی بھی خرچ نہیں کی) نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بارگاہ تیار ہوئی۔بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کو ٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا۔اور کھانے کے لئے نان جو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا۔اور ہمیشہ فقر کو تونگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا اور اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے ( یعنی کہ ابتدائی زندگی سے لے کر آخر تک وصال تک ) بجز