خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 299
خطبات مسرور جلد 13 299 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء آنحضرت مسیلی یہ نہم کی شان اور مقام کبھی انہوں نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ دیکھیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس طرح بیان فرمایا ہے اور جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں یہ سب کچھ کس خوبصورتی سے پیش کیا جاتا ہے۔انصاف پسند مسلمان جو ہیں، عربوں میں سے بھی اور دوسری قوموں میں سے بھی جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے، جب جماعت کالٹریچر دیکھتے ہیں، کتب دیکھتے ہیں اور پھر پتا لگتا ہے کہ حقیقت کیا ہے تو حیران ہوتے ہیں کہ ان نام نہاد علماء نے جو اپنے آپ کو اسلام کا علمبر دار سمجھتے ہیں کس طرح جھوٹ اور فریب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خیالات کو تعلیمات کو، آپ کی تحریرات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے اور کرتے چلے جارہے ہیں۔یہ دیکھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کی شان کو کس طرح بیان فرمایا ہے ہمارے ایم ٹی اے کے جو لا ئیوٹی وی پروگرام ہوتے ہیں ان میں بھی اور خطوط کے ذریعہ سے بھی اکثر لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں جو ابھی احمدی نہیں ہوئے کہ ہمیں اس مقام اور اس شان کا اب پتا لگا ہے۔نہیں تو ان علماء نے تو ہمیں جہالت کے پردے میں رکھا ہوا تھا۔لوگوں پر یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ احمدیت کی دشمنی میں یہ لوگ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے نام پر حرف لانے کا باعث بن رہے ہیں۔بہر حال ان علماء کا تو دین ہی دشمنی اور فساد ہے۔اس لئے کبھی یہ کوشش نہیں کریں گے کہ ہم حقیقت معلوم کریں چاہے اس کی وجہ سے سادہ لوح مسلمانوں میں جتنا بھی بگاڑ پیدا ہو جائے۔بہر حال یہ تو ان کے کام ہیں یہ کرتے رہیں گے اور کرتے چلے جائیں گے کیونکہ ان کو دین سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات پیارے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح ان مخالفین کے یہ عمل ہمارے ایمانوں میں جلاء پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق میں بڑھنے کے لئے کھاد کا کام دینے والے ہونے چاہئیں۔اگر ہماری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ کم تھی تو اب زیادہ توجہ پیدا ہونی چاہئے۔ایک پنجاب کی حکومت کی روک سے تو کیا تمام دنیا کی حکومتوں کی روکوں سے بھی یہ کام نہیں رک سکتا کیونکہ یہ انسانی کوششوں سے کئے جانے والے کام نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علم و معرفت کے خزانوں کے ساتھ بھیجا ہے اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ہمیشہ ہم نے یہی دیکھا ہے کہ بڑی بڑی روکوں اور مخالفتوں کے بعد جماعت کی ترقی زیادہ ابھر کر