خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد 13 267 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرا سر وراحمد خلیفہ مسیح الامس ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء بمطابق 01 ہجرت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے واقعات بیان فرماتے ہیں تو بڑی باریکی سے ان میں سے وہ نتائج اخذ کرتے ہیں جو ایمان کے صحیح راستوں کی طرف نشاندہی کر کے ایک مومن کو اسے خدا تعالیٰ اور دین کی حقیقی شناخت کرنے والا اور اس کا ادراک پانے والا بنائے۔ایک دفعہ آپ اپنی ایک تقریر میں آیتہ الکرسی کی تفسیر فرما رہے تھے تو اس کے اس حصے کہ لۂ ما في السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ(البقرة:256) کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب بتاؤ کہ جب تمہارا ایسا آتا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے تو اس کے مقابلے میں اور کسی کو تم کس طرح اپنا آ قا بنا سکتے ہو۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے سوا کسی کو نہیں پوجتے اور غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔البتہ ان کی نیازیں دیتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ہماری شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کریں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے حکم کے بغیر تو کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھ کر کس نے بڑا انسان ہونا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ جب نواب صاحب کے ( نواب محمد علی خان صاحب کے ) لڑکے عبدالرحیم خان کے لئے جبکہ وہ بیمار تھا دعا کی تو الہام ہوا کہ یہ بچتا نہیں۔آپ کو خیال آیا کہ نواب صاحب اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان آرہے