خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 259
خطبات مسرور جلد 13 259 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 124 اپریل 2015 ء جس کسی سے محبت ہو اس کی طرف) جو انسان کو باقی ہر قسم کے لگاؤ سے پھیر کر اسی کی طرف لے جاتا ہے۔پہلے دو تو عقلی نکتے ہیں کیونکہ اگر یقین نہیں کہ جو پکار میں کر رہا ہوں وہ سنی جائے گی اور یہ اعتماد نہیں کہ جس کو میں پکار رہا ہوں اس میں مدد کی طاقت ہے تو پھر یہ بیوقوفی ہے کہ اسے مدد کے لئے پکارا جائے۔پھر دعا فضول چیز ہے۔تیسری بات فطری لگاؤ یا فطرتی محبت ہے جو ہر دوسری چیز کی طرف سے آنکھ بند کر کے صرف محبوب کی طرف لے جاتی ہے۔اس کے لئے بچے کی اور ماں کی مثال ہے جیسا کہ پہلے بھی دی گئی۔بچے کا ماں سے فطرتی تعلق ہے قطع نظر اس کے کہ ماں بچے کی مدد کر سکے یا نہ کر سکے وہ اسے ہی پکارتا ہے یہاں تک کہ ایک سمندر میں ڈوبنے والا بچہ جسے علم ہو کہ میری ماں کو تیر نا نہیں آتا پھر بھی اگر ماں اس کے قریب ہوگی تو وہ ماں کو ہی مدد کے لئے پکارے گا کسی دوسرے کو آواز نہیں دیتا۔یہ ایک جذباتی تعلق ہے اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اَلدُّعَاء مَخُ الْعِبَادَةِ۔یعنی بغیر دعا کے انسان کے ایمان کو کامل نہیں کیا جا سکتا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کو بچے اور ماں کا تعلق قرار دیا ہے کہ آنکھ بند کر کے اس کی طرف بھاگو، اس کی طرف جاؤ۔پھر دوسری چیز اخلاق ہیں جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسے بار یک در بار یک اخلاقی پہلو ہیں کہ بار یک نگاہ سے دیکھنے والا بھی نہیں دیکھ سکتا۔ان تک جانہیں سکتا جب تک آپ کی رہنمائی نہ ہو۔اب بیویوں سے حسن سلوک ہے اور محبت کا اظہار ہے۔گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لئے یہ بہت ضروری بھی ہے۔یہ بنیادی اخلاق میں سے ایک چیز ہے۔بیویوں کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس حد تک باریکی سے خیال رکھتے تھے۔آپ کے متعلق آتا ہے کہ جب آپ کی کوئی بیوی برتن میں پانی پیتی تو آپ نے جب پانی پینا ہوتا تو آپ اس جگہ منہ لگا کر پیتے جہاں سے اس نے پیا تھا۔یہ بڑی چھوٹی سی بات ہے مگر کیسا باریک نکتہ ہے کہ انسانی محبت صرف بڑی بڑی باتوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔پھر یہی نہیں آپ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ اخلاق کے بڑے بڑے معاملات میں بھی آپ نے ایسی تعلیم دی ہے اور ایسا اُسوہ دکھایا ہے کہ یہ دیکھنے سے لگتا ہے کہ آپ تمام عمر صرف اخلاقیات کا ہی مطالعہ کرتے رہے اور اس کا درس دیتے رہے۔بنی نوع انسان کے باہمی تعلقات، رشتے داروں کے باہمی تعلقات، انسان کے اپنے ذاتی کیریکٹر کی تفصیلات ، جھوٹ خیانت بدگمانی سے پر ہیز، تمام امور ایسے ہیں جن میں آپ کا اسوہ اور تعلیم کامل اور مکمل ہے اور کوئی شخص بیبیوں زندگیاں بھی پا