خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 250 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 250

خطبات مسرور جلد 13 250 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء نے دعوی نہ کیا تھا مجھے کون جانتا تھا۔مگر آج تم اتنی دور سے میرے پاس چل کر آئے ہو یہی میری صداقت کا نشان ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے کہ جس وقت یہ گفتگو ہورہی تھی اور اس شخص نے کہا تھا کہ آپ مجھے اپنا کوئی معجزہ دکھا ئیں تو سب لوگ حیران تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا کیا جواب دیں گے؟ سب نے یہی خیال کیا کہ آپ کوئی ایسی تقریر کریں گے جس میں معجزات کے متعلق بتائیں گے کہ کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔لیکن جو نبی اس نے اپنی بات کو ختم کیا اور آپ کو انگریزی سے اردو ترجمہ کر کے سنائی گئی تو آپ نے فوراً یہی جواب دیا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں یہ ایک چھوٹی سی بات تھی لیکن ہر ایک انسان کی عقل اس تک نہیں پہنچ سکتی۔اب بھی ہر ایک وہ انسان جو عقل سے کام نہیں لے گا کہے گا کہ یہ کیا معجزہ ہے؟ مگر جن کی آنکھیں کھلی ہوئی اور عقل اور سمجھ رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بہت بڑا معجزہ ہے اور حق کے قبول کرنے والے کے لئے یہی کافی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے لکھا ہے کہ میری صداقت میں لاکھوں نشانات دکھلائے گئے۔لیکن میں تو کہتا ہوں کہ اتنے نشانات دکھلائے گئے ہیں جو گنے بھی نہیں جاسکتے مگر پھر بھی بہت سے نادان ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اتنے تو مرزا صاحب کے الہام بھی نہیں۔پھر نشانات کس طرح اس قدر ہو گئے؟ لیکن عقل اور سمجھ رکھنے والے انسان خوب جانتے ہیں کہ لاکھوں نشانات تو ایک الہام سے بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ایک قصہ مشہور ہے کہ کوئی شخص تھا اس نے اپنے بھتیجوں سے کہا کہ کل میں تم کو ایک ایسا لڈو کھلاؤں گا جو کئی ہزاروں، لاکھوں آدمیوں نے بنایا ہوگا۔دوسرے دن جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو انہوں نے لڈ وکھانے کی امید پر کچھ نہ کھایا اور چا کو کہا کہ وہ لڈور یجئے۔اس نے ایک معمولی لڈو نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ یہ ہے وہ لڈو جس کا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔اس کو دیکھ کر وہ سخت حیران ہوئے کہ یہ کس طرح کئی لاکھ آدمیوں کا بنایا ہوا ہے؟ چچا نے کہا کہ تم کا غذ اور قلم لے کر لکھنا شروع کر دو۔میں تمہیں بتا تا ہوں کہ واقعہ میں اس لڈو کو کئی لاکھ آدمیوں نے بنایا ہے۔دیکھو ایک حلوائی نے اسے بنایا۔اس کے بنانے میں جو چیزیں استعمال ہوئیں ان کو حلوائی نے کئی آدمیوں سے خریدا۔پھر ان میں سے ہر ایک چیز کو ہزاروں آدمیوں نے بنایا۔مثلاً شکر کو ہی لے لو اس کی تیاری پر کتنے آدمیوں کی محنت خرچ ہوئی ہے۔کوئی اس کو ملنے والے ہیں۔کوئی رس نکالنے والے ہیں۔کوئی ئیشکر کھیت سے لانے والے۔کوئی ہل جو تنے والے۔پانی دینے والے۔پھر ہل میں جو لو ہا اور لکڑی خرچ ہوئی ہے اس کے بنانے والے۔اسی طرح سب کا حساب لگاؤ تو کس قدر آدمی بنتے ہیں؟ پھر شکر کے سوا اس میں آتا ہے۔اس کے تیار کرنے والے کا اندازہ لگاؤ۔کیا اس طرح اتنی تعداد نہیں بن جاتی ؟