خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 244

خطبات مسرور جلد 13 244 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 اپریل 2015ء کا کوئی نبی ہوا ہے نہ ہوگا اور حیات مسیح ماننے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ساری دنیا کی حقیقی اصلاح کی میسج کی فوقیت ثابت ہوتی ہے اور یہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔ہم تو ایک لمحے کے لئے یہ خیال بھی اپنے دل میں نہیں لا سکتے کہ مسیح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے اور یہ ماننے سے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو زیر زمین مدفون ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام چوتھے آسمان پر بیٹھے ہیں اسلام کی سخت تو ہین ہوتی ہے۔دوسری بات جو اس حیات مسیح کے عقیدہ کے مانے سے ہمیں پچھتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے توحید الہی میں فرق آتا ہے۔یہ دو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہمیں وفات مسیح کے مسئلے پر زور دینا پڑتا ہے۔اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو مسیح خواہ آسمان پر ہوتے یا زمین پر ہمیں اس سے کیا واسطہ ہوتا۔مگر جب ان کا آسمان پر چڑھنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کا موجب بنتا ہے اور توحید کے منافی ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ہم تو یہ بات سنا بھی گوارا نہیں کر سکتے کہ مسیح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے کجا یہ کہ اس عقیدہ کو مان لیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ عام احمدی جب وفات مسیح کے مسئلے پر بحث کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے دلائل پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے اندر جوش پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اس طرح اس مسئلے کو بیان کرتے ہیں جس طرح عام گفتگو کی جاتی ہے۔مگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے کہ جب آپ وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے تھے تو اس وقت آپ جوش کی وجہ سے کانپ رہے ہوتے تھے اور آپ کی آواز میں اتنا جلال ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ حیات مسیح کے عقیدہ کا قیمہ کر رہے ہیں۔آپ کی حالت اس وقت بالکل متغیر ہو جایا کرتی تھی اور آپ نہایت جوش کے ساتھ یہ بات پیش کرتے تھے کہ دنیا کی ترقی کے راستے میں ایک بڑا بھاری پتھر پڑا تھا جس کو اٹھا کر میں دُور پھینک رہا ہوں۔دنیا تاریکی کے گڑھے میں گر رہی تھی مگر میں اس کو نور کے میدان کی طرف لے جا رہا ہوں۔آپ جس وقت یہ تقریر کر رہے ہوتے تھے آپ کی آواز میں ایک خاص جوش نظر آتا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت پر مسیح بیٹھ گئے ہیں جس نے ان کی عزت اور آبر وچھین لی ہے اور آپ اس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تخت واپس لینا چاہتے ہیں۔(ماخوذ از قومی ترقی کے دوا ہم اصول۔انوار العلوم جلد 19 صفحہ 92 95t) پس یہ تھی غیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لیکن آج کل کے علماء پر بھی حیرت ہے کہ