خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد 13 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 جنوری 2015ء سے جب پوچھا گیا کہ کونساظلم سب سے بڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ایک ہاتھ زمین دبا لے۔فرما یا اس زمین کا ایک کنکر بھی جو اس نے از راہ ظلم لیا ہو گا تو اس کے نیچے کی زمین کے جملہ طبقات کا طوق بن کر قیامت کے روز اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد دوم صفحه 61 مسند عبد الله بن مسعود حدیث 3772 مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت 1998ء) یعنی اس زمین کے نیچے گہرائی تک جتنی زمین ہے، اللہ جانتا ہے کتنی زمین ہے ) اس کا ایک طوق بنے گا اور اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔پس بڑے خوف کا مقام ہے۔وہ لوگ جو مقدمات میں اناؤں کی وجہ سے یا ذاتی مفادات کو حاصل کرنے کی وجہ سے لوگوں کے حق مارتے ہیں ان کو سوچنا چاہئے۔پھر ایک عہد ہم سے یہ لیا گیا ہے کہ خیانت نہیں کریں گے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563) اور خیانت نہ کرنے کا معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پیش فرمایا ؟ فرما یا اس شخص سے بھی خیانت سے پیش نہ آؤ جو تم سے خیانت سے پیش آچکا ہے۔(سنن ابی داؤ د کتاب البیوع باب في الرجل ياخذ حقه من تحت يده حدیث 3535) پس یہ معیار ہیں جو ہمیں حاصل کرنے ہیں۔کوئی عذر نہیں کہ فلاں کی امانت میں نے اس لئے قبضے میں کر لی یا اس کی چیز دبالی کہ اس نے فلاں وقت میرے ساتھ خیانت کا معاملہ کیا تھا۔اپنے حقوق کے لئے قضا یا اگر دوسرا فریق غیر از جماعت ہے تو عدالت میں جاؤ۔اگر جماعت کہتی ہے تو عدالت میں جائیں لیکن خیانت کا تصور ہی مومن کے ایمان کی بنیا د ہلا دیتا ہے۔فساد سے بچیں پھر یہ عہد ہے کہ ہر قسم کے فساد سے بچوں گا۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) اپنوں کے ساتھ جھگڑوں اور فساد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔غیروں سے جو ہمیں تکلیفیں پہنچا رہے ہیں ان سے بھی سلوک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا: وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگا یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لئے غائبانہ دعا کروں۔فرمایا : ”دیکھو میں اس امر کے لئے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد 66