خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد 13 212 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء جماعت لوگ بھی کہتے تھے کہ یہ ایک فرشتہ ہے۔اس وقت رفاہِ عام سوسائٹی میں بحیثیت قائد مجلس خدمت کی توفیق پارہے تھے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے والے تھے۔مخالفین کی طرف سے ان کو دھمکیاں ملتی رہتی تھیں لیکن اپنے چھوٹے بھائیوں کو ہمیشہ محتاط رہنے کی تلقین کرتے تھے۔چھ ماہ قبل شہید مرحوم اپنا کاروباری سامان لے کر آ رہے تھے کہ اس وقت ان کو نامعلوم افراد نے روک کر سامان بھی لے لیا اور رقم بھی لوٹ لی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم آئے تو تم کو مارنے تھے مگر چونکہ رقم مل گئی ہے اس لئے چھوڑ رہے ہیں۔شہید مرحوم کے پسماندگان میں والد مکرم چوہدری مقصود احمد صاحب، والدہ محترمہ صفیہ صادقہ صاحبہ اور دو بھائی ذیشان محمود اور عثمان احمد ہیں۔اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند کرے اور ان کے لواحقین کو ، والدین کو ، بھائیوں کو حوصلہ دے۔خرم احمد صاحب معلم سلسلہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ شہید بڑے نرم گو تھے۔محبت کرنے والے تھے۔جماعتی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوان تھے اور بڑی محنت سے انہوں نے وہاں انسٹال کیا جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے۔کئی دفعہ وہاں نگر پارکر میں آتے تھے جو سندھ کا بڑا دور دراز علاقہ ہے۔کئی بار جب وہاں پہنچتے تو ان کو کہا جاتا کہ آپ تھکے ہوئے ہیں آرام کر لیں ، پھر کام کریں لیکن ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ ہم مجاہد ہیں۔ہمیں شہری دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ ہم نازک مزاج ہیں۔اور ہمیشہ خدمت کے لئے تیار رہتے۔سابق قائد علاقہ منصور صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ بارہ سال کے تھے اور اطفال میں تھے۔ہمیشہ بڑے شوق اور جوش اور ولولے سے جماعتی کاموں میں، مقابلوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ہمیشہ پوزیشن لیتے تھے اور کہتے تھے میری پوزیشن ہمیشہ اول ہی آتی ہے۔اسی کے لئے کوشش کرتے کبھی دوم اور سوم پوزیشن پر راضی نہیں ہوتے تھے۔سکول کے بعد اپنے والد صاحب کی دوکان پر ان کا ہاتھ بٹاتے لیکن ساتھ ہی جماعتی ذمہ داریوں کو بھی انجام دے رہے ہوتے اور یوں لگتا تھا کہ وہ اپنے گھر یا ذاتی کاموں کو اتنا وقت نہیں دیتے جتنا وقت وہ جماعت کو دیا کرتے تھے۔اور نوجوانوں کی طرح کبھی اپنے وقت کو انہوں نے ضائع نہیں کیا۔انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ بات کرنے والے تھے۔ٹومی کالون صاحب کے بھی رشتے دار ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان نے کوشش کی کہ وہ پاکستان سے باہر آجائیں بڑا اصرار کیا لیکن وہ پاکستان چھوڑنے پر راضی نہیں تھے۔عمران طاہر صاحب مربی سلسلہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے عزیز بھی تھے۔بیس سال کے عرصہ میں میں نے انہیں ایک دفعہ بھی کسی پر چلاتے نہیں دیکھا۔سختی سے بات کرتے نہیں دیکھا۔عاجزی مسکینی اور حلم کی تصویر تھے۔نہایت با ادب اور محبت کرنے والے انسان تھے۔کینیڈا میں ان کی ایک خالہ زاد