خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 211

خطبات مسرور جلد 13 211 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء مخالفین احمدیت نے مؤرخہ 21 مارچ 2015 ء کو شام تقریباً پونے آٹھ بجے ان کی دکان پر آ کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔اِنَّا لِلهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس روز شام پونے آٹھ بجے شہید مرحوم اپنے سٹور پر تھے۔دو مسلح افراد نے سٹور پر آ کر فائرنگ کردی۔ایک گولی سینے میں لگی اور دل کو چھوتی ہوئی آر پار ہو گئی۔قریبی دکانداروں نے ان کے بھائی مکرم عثمان احمد صاحب کو فون کر کے اطلاع دی۔پھر ریسکیو والوں کو بھی اطلاع دی۔وہ فوری طور پر دکان پر آئے۔نعمان صاحب کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جارہے تھے لیکن راستے میں ہی وہ شہید ہو گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم چوہدری منظور احمد صاحب ابن مکرم چوہدری کریم الدین صاحب کے ذریعے ہوا تھا جنہوں نے خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کی تھی۔چوہدری منظور احمد صاحب کے والدین چھوٹی عمر میں وفات پاگئے تھے۔والدین کی وفات کے بعد چوہدری منظور صاحب قادیان چلے گئے جہاں بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ابتدائی تعلیم بھی قادیان میں حاصل کی۔وہیں پر محترمہ صفیہ صادقہ صاحبہ بنت مکرم مبارک علی صاحب کے ساتھ شادی ہوئی۔پھر قیام پاکستان کے بعد ہر پہ ساہیوال میں آگئے۔شہید مرحوم کے والد مکرم مقصود احمد صاحب ربوہ میں ہی پیدا ہوئے۔پھر یہ وہاں ربوہ سے بھی شفٹ کر گئے۔شہید مرحوم کے دادا نے گوجرانوالہ میں ملازمت کی وجہ سے 1968ء میں مع فیملی رہائش اختیار کر لی۔1974ء میں جب گوجرانوالہ میں ہنگامے ہوئے تو احمد یہ بیت الذکر کی حفاظت کرتے ہوئے شہید مرحوم کے دادا مکرم چوہدری منظور احمد صاحب، چچا مکرم محمود احمد صاحب اور پھوپھا مکرم سعید احمد صاحب بھی شہید ہو گئے۔ان سے پہلے اس خاندان میں یہ تین شہداء تھے۔ان حالات کی بناء پر یہ خاندان 1976ء میں کراچی شفٹ ہو گیا۔نعمان احمد نجم صاحب 26 جنوری 1985ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔آپ کی تعلیم ایم بی اے تھی۔اس کے بعد انہوں نے 2008ء میں اپنے کمپیوٹر ہارڈ ویئر کا بزنس شروع کر دیا۔مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔نہایت ایماندار، نیک دل، نیک سیرت، شریف النفس اور ملنسار تھے۔نہایت مخلص اور فدائی نوجوان تھے۔ملازمین کو بھی چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔نگر پارکر میٹھی میں جماعت کے زیر انتظام قائم شدہ کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اور مشن ہاؤس کے لئے کچھ کمپیوٹر اور متعلقہ سامان تحفے کے طور پر پیش کیا۔وہاں سسٹم خود انسٹال (install) کر کے آئے۔شہید مرحوم کی خواہش تھی کہ اپنے دادا مکرم چوہدری منظور احمد صاحب شہید کے نام سے ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ بنائیں تا کہ ان کے شہید دادا کا نام ہمیشہ زندہ رہے اور اسی لئے انہوں نے مٹھی میں کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کو کچھ سامان اور کمپیوٹر وغیرہ تحفہ بھی دیئے تھے۔بڑی ہر دلعزیز شخصیت تھے۔غیر از