خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 209
خطبات مسرور جلد 13 209 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء پھر اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سلوک کا ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں امرتسر سے یکے پر سوار ہوکر روانہ ہوا۔ایک بہت موٹا تازہ ہندو بھی میرے ساتھ ہی یگے پر سوار ہوا۔وہ مجھ سے پہلے یکے کے اندر بیٹھ گیا اور اپنے آرام کی خاطر اپنی ٹانگوں کو اچھی طرح پھیلا لیا حتی کہ اگلی سیٹ جہاں میں نے بیٹھنا تھا وہ بھی بند کر دی۔(اس میں بھی روک ڈال دی۔چنانچہ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ) میں تھوڑی سی جگہ میں ہی بیٹھ رہا۔ان دنوں دھوپ بہت سخت پڑتی تھی کہ انسان کے ہوش باختہ ہو جاتے تھے۔مجھے دھوپ سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ( کیا انتظام کیا کہ ایک بدلی بھیجی جو ہمارے یکے کے ساتھ ساتھ سایہ کرتی ہوئی بٹالے تک آئی۔یہ نظارہ دیکھ کر وہ ہندو کہنے لگا کہ آپ تو خدا تعالیٰ کے بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔(خطبات محمود جلد 17 صفحہ 535-534) پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ایسا سلوک کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے مگر عبودیت شرط ہے اور ایسے انسان کا انجام ضرور بخیر ہو گا بظاہر وہ دنیا کی ظاہر بین نظروں میں ذلیل ہوتا نظر آ رہا ہو گا لیکن انجام کار اس کو عزت حاصل ہوگی۔بظاہر وہ بدنام بھی ہورہا ہو گا لیکن انجام کار نیک نامی اسی کو حاصل ہوگی۔گو یا اس شخص کی ابتدا عبودیت سے اور انجام استعانت پر ختم ہوگا۔یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا صحیح عابد بن کر اس کی عبادت کی جائے ، اس کی بندگی اختیار کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد پھر شامل حال رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شر کے خلاف پھر مددفرماتا ہے۔ایک عام پیر اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادے کے نیک اثر ڈالنے اور نیکیاں بانٹنے اور اپنے مریدوں کی اصلاح کرنے اور انسانیت کے لئے درد میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانہ والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی سے پہلے ہی وفات پاگئے تھے مگر ان کی روحانی بینائی اتنی تیز تھی کہ انہوں نے دعوی سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کولکھا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنوخدا کے لئے انہوں نے ( یعنی منشی احمد جان صاحب) نے اپنی اولا د کونصیحت کی تھی کہ میں تو اب مر رہا ہوں مگر اس بات کو اچھی طرح یا درکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعویٰ کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔غرض اس پائے کے وہ روحانی آدمی تھے۔انہوں نے اپنی جوانی میں بارہ سال تک وہ چھٹی جس میں بیل جوتا جاتا ہے اپنے پیر کی خدمت کرنے کے لئے چلائی۔( پیر صاحب نے جو