خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 208 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 208

خطبات مسرور جلد 13 208 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء ہوں۔کنورسین صاحب جو لاء کالج لاہور کے پرنسپل ہیں ان کے والد صاحب سے حضرت صاحب کو بڑا تعلق تھا حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی روپیہ کی ضرورت ہوتی تو بعض دفعہ ان سے قرض بھی لے لیا کرتے تھے۔( یہ کنورسین صاحب ہندو تھے۔) ان کو بھی حضرت صاحب سے بڑا اخلاص تھا۔جہلم کے مقدمے میں انہوں نے اپنے بیٹے کو تار دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے وکالت کریں۔اس اخلاص کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایام جوانی میں جب وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع چند اور دوستوں کے سیالکوٹ میں اکٹھے رہتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی نشانات دیکھے تھے۔چنانچہ ان نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک رات آپ دوستوں سمیت سورہے تھے کہ آپ کی ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ) آنکھ کھلی۔اور دل میں ڈالا گیا کہ مکان خطرے میں ہے۔آپ نے ان سب دوستوں کو جگایا اور کہا کہ مکان خطرے میں ہے اس میں سے نکل چلنا چاہئے۔سب دوستوں نے نیند کی وجہ سے پرواہ نہ کی اور یہ کہہ کر سو گئے کہ آپ کو وہم ہو گیا ہے۔مگر آپ کا احساس برابر ترقی کرتا چلا گیا۔آخر آپ نے پھر ان کو جگایا اور توجہ دلائی کہ چھت میں سے چڑ چڑا ہٹ کی آواز آتی ہے۔مکان خالی کر دینا چاہئے۔انہوں نے کہا معمولی بات ہے ایسی آواز بعض جگہ لکڑی میں کیڑا لگنے سے آیا ہی کرتی ہیں۔آپ ہماری نیند کیوں خراب کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر اصرار کیا کہ اچھا آپ لوگ میری بات مان کر ہی نکل چلیں۔آخر مجبور ہو کر لوگ نکلنے پر رضامند ہوئے۔حضرت صاحب کو چونکہ یقین تھا کہ خدا میری حفاظت کے لئے مکان (کے) گرنے کو روکے ہوئے ہے۔میری حفاظت کی وجہ سے مکان کے گرنے کو روکے ہوئے ہے اس لئے آپ نے انہیں کہا کہ پہلے آپ نکلو پیچھے میں نکلوں گا۔جب وہ نکل گئے اور بعد میں حضرت صاحب نکلے تو آپ نے ابھی ایک ہی قدم سیڑھی پر رکھا تھا کہ چھت گر گئی۔دیکھو آپ انجینئر نہ تھے کہ چھت کی حالت کو دیکھ کرسمجھ لیا ہو کہ گرنے کو تیار ہے۔علاوہ ازیں جب تک آپ اصرار کر کے لوگوں کو اٹھاتے رہے اس وقت تک چھت اپنی جگہ پر قائم رہی اور جب تک آپ نہ نکل گئے تب تک بھی نہ گری۔مگر جونہی کہ آپ نے پاؤں اٹھا یا چھت زمین پر آ گری۔یہ امر ثابت کرتا ہے کہ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اس مکان کو حفیظ ہستی اس وقت تک رو کے رہی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی حفاظت اس حفیظ کے مد نظر تھی اس مکان سے نہ نکل آئے۔پس صفت حفیظ کا وجود ایک بالا رادہ ہستی پر شاہد ہے اور اس کا ایک زندہ گواہ ہے۔“ (ماخوذ از ہستی باری تعالیٰ ، انوار العلوم جلد 6 صفحہ 325-324)