خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 191
خطبات مسرور جلد 13 191 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء خسوف ان کے دعوے کی دلیل کے طور پر ہیں۔اس پر مولوی صاحب خاموش ہو گئے اور دونوں باپ بیٹا اپنے گاؤں چلے گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 8 صفحہ 4 روایت حضرت مولانا ابراہیم صاحب بقا پوری) اللہ تعالیٰ نے ان کو قبولیت کی توفیق دی۔اور دلیلیں بھی اللہ تعالیٰ فور اسکھاتا ہے۔سید نذیر حسین شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جب سورج اور چاند کو گرہن لگا تو اس وقت میں اپنے گھر تھا۔میرے والد صاحب یہ کہہ رہے تھے کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا نشان ہے۔اس بات کا بھی مجھ پر اثر ہوا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 10 صفحه 237 روایت حضرت سید نذیر حسین شاہ صاحب گھٹیا لیاں ضلع سیالکوٹ ) چنانچہ قبولیت کی توفیق بھی ملی۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں اس بات کا عام چرچا تھا کہ مسلمان برباد ہو چکے ہیں اور تیرھویں صدی کا آخر ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت امام مہدی تشریف لائیں گے اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ بھی تشریف لائیں گے۔چنانچہ حضرت والدہ صاحبہ اس مہدی اور عیسی کی آمد کا ذکر بڑی خوشی سے کیا کرتی تھیں کہ وہ زمانہ قریب آ رہا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کرتی تھیں کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کا ہونا بھی حضرت مہدی کے زمانے کے لئے مخصوص تھا اور وہ ہو چکا ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 11 صفحہ 142 ، 143 روایت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب سکنہ سہالہ ضلع راولپنڈی) بہر حال اللہ تعالیٰ نے پھر سارے خاندان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب فرماتے تھے کہ رمضان کے مہینے میں چاند اور سورج گرہن لگنے کی پیشگوئی دار قطنی وغیرہ احادیث میں بطور علامت مہدی بیان ہوئی۔مارچ 1894ء میں پہلے چاند ماہ رمضان میں گہنایا۔جب اسی رمضان میں سورج کو گرہن لگنے کے دن قریب آئے تو دونوں بھائی اس ارادے سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہ نشان دیکھیں اور کسوف کی نماز ادا کریں، ہفتے کی شام کو لاہور سے روانہ ہو کر قریبا گیارہ بجے رات بٹالہ پہنچے۔اگلے دن علی الصبح گرہن لگنا تھا۔( اب ان نوجوانوں کا بھی شوق دیکھیں کتنا ہے۔) آندھی چل رہی تھی بادل گرجتے اور بجلی چمکتی تھی۔ہوا مخالف تھی اور