خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 190

خطبات مسرور جلد 13 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015 ء پیدا نہ ہوئی مگر ان کے بڑے بیٹے یعنی مولانا ابوالعطاء صاحب کے والد حضرت میاں امام الدین صاحب کو مدعی کا علم ہوا اور کچھ مطالعہ اور غور وفکر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق اور بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔(ماخوذ از ماہنامہ الفرقان اکتوبر 1967 صفحہ 43۔بحوالہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ مئی 1994 ء صفحہ 84) در ششمین کا اثر حضرت غلام مجتبی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ 1901ء میں در خمین میری نظر سے گزری جبکہ میں ہانگ کانگ میں ملازم تھا۔چونکہ زمانہ تقاضا کر رہا تھا کہ مصلح دنیا میں ظاہر ہو کیونکہ اختلافات اس قسم کے علمائے زمانہ میں پائے جاتے تھے کہ ہر ایک عقل سلیم رکھنے والا ان اختلافات سے بیزار ہو کر مصلح کی تلاش میں تھا۔در ششمین کے اشعار پڑھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو ز ہے قسمت ورنہ اس شخص نے جھوٹ میں کمال ہی کر دیا ہے۔(ایسی اعلیٰ کتاب ہے۔) اسی دوران ازالہ اوہام میری نظر سے گزرا مگر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کس نے یہ کتابیں ہانگ کانگ میں پہنچائیں۔میں نے ازالہ اوہام کو تمام کا تمام پڑھا اور پھر میں اس طریق پر امام مسجد ہانگ کانگ سے بحث و مباحثہ کرتا رہا۔امام مسجد ہانگ کانگ کے پاس قصیدہ نعمت اللہ ولی اللہ کا فارسی میں تھا اس کے پڑھنے سے ہمیں بہت سی مدد ملتی کہ زمانہ تو عنقریب ہے کہ مہدی کا ظہور ہو بلکہ یہی زمانہ ہے۔نیز میرے والد صاحب مرحوم مقیبی تھے جب سورج کو گرہن رمضان میں لگا اور چاند کو بھی تو میرے والد صاحب نے فرمایا کہ مہدی علیہ السلام پیدا ہو گیا ہے۔(ماخوذ از رجسٹروایات صحابہ غیر مطبوع ، جلد 7 صفحہ 116 روایت حضرت غلام مجتبی صاحب سکنہ رسول پور تحصیل کھاریاں ضلع گجرات) مولانا ابراہیم صاحب بقا پوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ دو شخص جو باپ بیٹے تھے مولوی عبدالجبار کے پاس آکر کہنے لگے کہ وہ حدیث جس میں کسوف و خسوف کا ذکر امام مہدی کے ظہور کے لئے آیا ہے صحیح ہے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ حدیث تو صحیح ہے مگر مرزا صاحب کے پھندے میں نہ پھنس جانا کیونکہ وہ اس کو اپنے دعوے کی تصدیق میں پیش کرتے ہیں اور یہ حدیث امام مہدی کی پیدائش کے متعلق ہے نہ کہ دعوے کی دلیل کے لئے ہے۔باپ نے کہا مولوی صاحب ! جو بات میں نے آپ سے پوچھی اس کا جواب آپ نے دے دیا ہے۔باقی رہا یہ کہ وہ کس پر چسپاں ہوتی ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ میری ساری عمر مقدمہ جات میں گزری ہے مگر مجھے سرکار نے کبھی گواہ لانے کے لئے نہیں کہا تھا جبتک کہ میں پہلے دعوی نہ کرتا۔یہی حال مرز اصاحب کا ہے کہ ان کا دعویٰ تو پہلے سے ہی ہے اور اب یہ کسوف و