خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد 13 136 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء تو والد صاحب کا خط آیا ہوا تھا جو کہ افریقہ سے دس بارہ دن پہلے لکھا گیا تھا۔اس میں لکھا تھا کہ میں نے خدا سے دعا کی ہے۔خدا نے مجھے بتایا ہے کہ تمہیں ویز مل گیا ہے۔ان کے داما دجومر بی ہیں لکھتے ہیں کہ دعا پر یقین تھا۔جب آپ سیرالیون سے واپس آ رہے تھے اور چارج خلیل احمد مبشر صاحب کو دے دیا تو خلیل صاحب نے پوچھا کہ نازک حالات میں مجھے کیا کرنا چاہئے اور جماعت کو کیسے سنبھالوں اور آپ کیسے سنبھالتے تھے تو انہوں نے ایک ہی بات کہی کہ جب بھی مشکل حالات پیدا ہو جاتے تو دروازہ بند کر لیتا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ پھر میں ہوتا ہوں اور خدا ہوتا ہے۔یہی نسخہ ہر مشکل سے نکلنے کا علاج ہے۔مجید سیالکوٹی صاحب بھی لکھتے ہیں کہ مربیوں سے اگر سستی ہوتی تو سختی بڑی کرتے لیکن خیال بھی بہت رکھا کرتے تھے۔پیار بھی بہت کیا کرتے تھے۔اپنے کھانے پینے کے اخراجات سفر میں بھی ہوتے تو ہمیشہ خود برداشت کرتے چاہے سوکھی مونگ پھلی کھا لیں یا سوکھی مچھلی کھا لیں۔جماعت پر اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالتے تھے۔حنیف قمر صاحب مربی ہیں۔کہتے ہیں کہ جب میں سیرالیون گیا تو میں پرانے مبلغین کے حالات کا جائزہ لیتا تھا۔وہاں ہمارے ایک افریقن احمدی بھائی پا سلمان ماتسرے صاحب تھے۔ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔مولوی صاحب کے بارے میں جب ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فرشتہ تھے۔ہمارے اس افریقن بھائی کا تبصرہ یقیناً بہت سچا ہے اور بہت ساری صفات میں وہ فرشتہ صفت بھی تھے۔اللہ تعالیٰ ایسے واقفین زندگی جماعت کو ہمیشہ عطا فرماتا رہے۔بڑے متوکل اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کو اپنے پیاروں کے قرب سے نوازے۔ان کے بچوں میں بھی ہمیشہ جماعت اور خلافت کے ساتھ وفا پیدا کرے اور خاص طور پر ان کے داماد اور بیٹے جو واقف زندگی ہیں انہیں مکرم مولانا صاحب کی خواہش کے مطابق وفا سے اپنے وقف نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 مارچ 2015 ء تا 19 مارچ 2015 ، جلد 22 شماره 11 صفحہ 1005 )