خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 126
خطبات مسرور جلد 13 126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء ہوں کہ تم نے ایسی اعلیٰ تقریر کی۔میں تمہیں خوش کرنے کے لئے یہ نہیں کہہ رہا۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں بہت پڑھنے والا ہوں اور میں نے بڑی بڑی تفسیریں پڑھی ہیں مگر میں نے بھی آج تمہاری تقریر میں قرآن کریم کے وہ مطالب سنے ہیں جو پہلی تفسیروں میں ہی نہیں بلکہ مجھے بھی پہلے معلوم نہیں تھے۔اب یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک نہ میرا مطالعہ وسیع تھا اور نہ قرآن کریم پر لمبے غور کا کوئی زمانہ گزرا تھا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر اس وقت ایسے معارف جاری کر دیئے جو پہلے بیان نہیں ہوئے تھے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 22 صفحہ 473) وہ علوم باطنی سے پر کیا جائے گا“۔اس کے بارے میں بتا تا ہوں۔پہلے ظاہری علوم سے پر ہونے کا ذکر تھا۔اب باطنی علوم سے پر کیا جائے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ باطنی علوم سے مراد وہ علوم مخصوصہ ہیں جو خدا تعالیٰ سے خاص ہیں۔جیسے علم غیب ہے جسے وہ اپنے ایسے بندوں پر ظاہر کرتا ہے جن کو وہ دنیا میں کوئی خاص خدمت سپرد کرتا ہے تا کہ خدا تعالیٰ سے ان کا تعلق ظاہر ہو اور وہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان کو تازہ کر سکیں۔سو اس شق میں بھی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر خاص عنایت فرمائی ہے اور سینکڑوں خوا ہیں اور الہام مجھے ہوئے ہیں جو علوم غیب پر مشتمل ہیں۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی جبکہ خلافت کا کوئی سوال بھی ذہن میں پیدا نہیں ہو سکتا تھا مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ ان الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ۔یعنی وہ لوگ جو تجھ پر ایمان لائیں گے ان لوگوں پر جو تیرے مخالف ہوں گے قیامت تک غالب رہیں گے۔یہ الہام میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنایا اور آپ نے اسے لکھ لیا۔یہ وہی آیت ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتی ہے مگر وہاں الفاظ یہ ہیں کہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (آل عمران : 56) کہ میں تیرے منکروں پر تیرے مومنوں کو قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔مگر مجھے جو الہام ہوا وہ یہ ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ جو پہلے سے زیادہ تاکیدی ہے۔یعنی میں اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں یقینا تیرے ماننے والوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دوں گا۔یہ الہام جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا اور آپ نے اسے لکھ لیا۔میں عرصہ دراز سے یہ الہام دوستوں کو سناتا چلا آ رہا ہوں۔اس کے نتیجے میں دیکھو کہ کس کس طرح