خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 79
خطبات مسرور جلد 12 79 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف:4)‘“۔پھر فرمایا کہ اگر تم اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو۔فرماتے ہیں کہ : " صَابِرُوا ورابطوا - ( قرآنِ کریم میں آل عمران کی آیت 201 ہے) جس طرح دشمن کے مقابلہ پر سرحد پر گھوڑا ہونا ضروری ہے تاکہ دشمن حد سے نہ نکلنے پاوے۔اسی طرح تم بھی تیار رہو۔ایسا نہ ہو کہ دشمن سرحد سے گزر کر اسلام کو صدمہ پہنچائے۔میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اگر تم اسلام کی حمایت اور خدمت کرنا چاہتے ہو تو پہلے خود تقویٰ اور طہارت اختیار کرو جس سے خود تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصنِ حصین میں آسکو۔اور پھر تم کو اس خدمت کا شرف اور استحقاق حاصل ہو۔تم دیکھتے ہو کہ مسلمانوں کی بیرونی طاقت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔قومیں ان کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں“۔(اور آج جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ حالت تو پہلے سے بھی بڑھ کر ہوئی ہوئی ہے) فرمایا کہ "اگر تمہاری اندرونی اور قلبی طاقت بھی کمزور اور پست ہوگئی تو بس پھر تو خاتمہ ہی سمجھو۔تم اپنے نفسوں کو ایسے پاک کرو کہ قدسی قوت ان میں سرایت کرے اور وہ سرحد کے گھوڑوں کی طرح مضبوط اور محافظ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ متقیوں اور راستبازوں ہی کے شامل حال ہوا کرتا ہے۔اپنے اخلاق اور اطوار ایسے نہ بناؤ جن سے اسلام کو داغ لگ جاوے۔بدکاروں اور اسلام کی تعلیم پر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں سے اسلام کو داغ لگتا ہے۔کوئی مسلمان شراب پی لیتا ہے تو کہیں قے کرتا پھرتا ہے۔پگڑی گلے میں ہوتی ہے۔موریوں اور گندی نالیوں میں گرتا پھرتا ہے۔پولیس کے جوتے پڑتے ہیں۔ہندو اور عیسائی اس پر ہنستے ہیں۔اس کا ایسا خلاف شرع فعل اس کی ہی تضحیک کا موجب نہیں ہوتا بلکہ در پردہ اس کا اثر نفس اسلام تک پہنچتا ہے۔مجھے ایسی خبریں یا جیل خانوں کی رپورٹیں پڑھ کر سخت رنج ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ اس قدر مسلمان بدعملیوں کی وجہ سے موردِ عتاب ہوئے۔دل بے قرار ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ جو صراط مستقیم رکھتے ہیں اپنی بداعتدالیوں سے صرف اپنے آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ اسلام پر جنسی کراتے ہیں۔میری غرض اس سے یہ ہے کہ مسلمان لوگ مسلمان کہلا کر ان ممنوعات اور منہیات میں مبتلا ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کو بلکہ اسلام کو مشکوک کر دیتے ہیں۔پس اپنے چال چلن اور اطوار ایسے بنا لو کہ کفار کو بھی تم پر ( جو دراصل اسلام پر ہوتی ہے ) نکتہ چینی کرنے کا موقعہ نہ ملے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 76 تا 78)