خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 78

خطبات مسرور جلد 12 78 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء گی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے، مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے بخل ہے، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں۔ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یا درکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں۔جبتک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھا ئیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے او پر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو، وہ خشک ٹہنی ہے۔اُس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر وہ اُس کو سر سبز نہیں کر سکتا بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 48-49) یہ حوالہ ہم پہلے بھی کئی دفعہ سنتے ہیں، پڑھتے ہیں لیکن اُس حوالے کے ساتھ ملا کر دیکھیں جس میں آپ نے درد کا اظہار کیا ہے کہ کئی دن سے مجھے اور کسی چیز کا ہوش ہی نہیں سوائے اس بات کے کہ جماعت کی عملی اصلاح ہو جائے ، تو پھر ایک خاص فکر پیدا ہوتی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ کس وقت کوئی آدمی سچا مومن کہلا سکتا ہے؟ فرمایا کہ: میں کھول کر کہتا ہوں کہ جب تک ہر بات پر اللہ تعالیٰ مقدم نہ ہو جاوے اور دل پر نظر ڈال کر وہ نہ دیکھ سکے کہ یہ میرا ہی ہے، اس وقت تک کوئی سچا مومن نہیں کہلا سکتا۔ایسا آدمی تو ال (عرف عام ) کے طور پر مومن یا مسلمان ہے۔جیسے چوہڑے کو بھی مصلی یا مومن کہہ دیتے ہیں۔مسلمان وہی ہے جو اسلم وَجْهَهُ لِلهِ (البقرة: 113) کا مصداق ہو گیا ہو۔وجہ مونھ کو کہتے ہیں مگر اس کا اطلاق ذات اور وجود پر بھی ہوتا ہے۔پس جس نے ساری طاقتیں اللہ کے حضور رکھ دی ہوں وہی سچا مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔مجھے یاد آیا کہ ایک مسلمان نے کسی یہودی کو دعوت اسلام کی کہ تو مسلمان ہو جا۔مسلمان ( وہ دعوتِ اسلام دینے والا جو تھا ) خود فسق و فجور میں مبتلا تھا۔یہودی نے اس فاسق مسلمان کو کہا کہ تو پہلے اپنے آپ کو دیکھ اور تو اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تو مسلمان کہلاتا ہے۔خدا تعالیٰ اسلام کا مفہوم چاہتا ہے نہ نام اور لفظ “ پھر آپ فرماتے ہیں کہ : وو۔۔۔۔یادرکھو کہ صرف لفاظی اور کستانی کام نہیں آسکتی، جب تک کہ عمل نہ ہو۔محض باتیں عند اللہ