خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد 12 72 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء اس کا جواب تو اپنے انداز میں جواب دینے والوں نے مختصر ادیا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کی تفصیل جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہے، وہ بتانی ضروری ہے۔کیونکہ شاید دوسرے معترضین بھی اور کم علم بھی یا کم علم رکھنے والے ہمارے نو جوان سوال کرنے والے کے انداز سے متاثر ہوں یا پھر تفصیل چاہتے ہوں۔راہ ہدکی پروگرام میں اس طرح کے اور سوال بھی غیر از جماعت جو افراد ہیں کرتے رہتے ہیں جس کا بعض دفعہ اُسی وقت علماء جواب دے دیتے ہیں، بعض دفعہ اگر جواب تفصیل چاہتا ہو تو اگلے پروگرام میں دیا جاتا ہے۔اس لئے مجھے ضرورت نہیں کہ جو اعتراض اور سوال اُٹھتے ہیں اُن میں سے ہر ایک کا اپنے خطبات میں جواب دینا شروع کر دوں۔تاہم اس کی تفصیل میں اس لئے بتارہا ہوں کہ گزشتہ جمعوں میں جو خطبات کا سلسلہ جاری تھا اُن میں میں نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہمارے ایمان میں اضافے اور غیروں کے منہ بند کرنے کے لئے اس قدر تعداد میں موجود ہیں کہ شاید اس کا عشر عشیر بھی غیروں کے پاس نہ ہو۔جس بات کو یا الہام کو ان صاحب نے ہنسی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، وہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں اپنے نشان کے طور پر پیش فرمائی ہے۔اسی طرح تذکرہ میں بھی اس کا ذکر ہے اور کافی تفصیل سے ذکر ہے۔بہر حال سوال کرنے والے کے سوال سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اُس نے جو سوال یا اعتراض ہے وہ کم از کم تذکرہ پڑھ کر کیا ہے۔لیکن سیاق و سباق یا پڑھا ہے یا جان بوجھ کر اُس میں اُس کو ذکر نہیں کیا تا کہ الجھن میں ڈالا جائے۔براہین احمدیہ میں بھی اسی طرح ہے۔تقریباً یہی مضمون ہے اور وہ بہر حال انہوں نے نہیں پڑھی ہوگی۔کیونکہ وہ تو ایسی کتاب ہے جو بڑی توجہ سے پڑھنے کی ضرورت ہے اور میرا نہیں خیال کہ ان میں یہ صلاحیت ہو۔بہر حال اصل حوالہ پیش ہے۔یہ 1882 ء کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " کچھ عرصہ گزرا ہے کہ ایک دفعہ سخت ضرورت روپیہ کی پیش آئی۔جس ضرورت کا ہمارے اس جگہ کے آریہ ہم نشینوں کو بخوبی علم تھا۔اس لئے بلا اختیار دل میں اس خواہش نے جوش مارا کہ مشکل کشائی کے لئے حضرت احدیت میں دعا کی جائے تا اس دعا کی قبولیت سے ایک تو اپنی مشکل حل ہو جائے اور دوسری مخالفین کے لئے تائید الہی کا نشان پیدا ہو۔ایسا نشان کہ اس کی سچائی پر وہ لوگ گواہ ہو جا ئیں۔سواسی دن دعا کی گئی اور خدائے تعالیٰ سے یہ مانگا گیا کہ وہ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے۔تب یہ الہام