خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 772
خطبات مسرور جلد 12 772 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء ہمیں اس عہد کے ساتھ جلسے کی ہر مجلس سے اٹھاتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں وہ انقلاب لانے کی اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کوشش کرنی ہے جو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے چاہتے ہیں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بیان فرمائی ہیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنتے چلے جانے والے ہوں گے ورنہ تو پھر اللہ تعالیٰ کو یہ کہنے والی بات ہے کہ ہم نے تو کچھ کرنا نہیں۔تیری بات تو ہم نے مانتی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي (البقرة: 187) کہ میرے حکم کو بھی قبول کرو ( وہ تو ہم نے مانی نہیں) لیکن دعاؤں کا ہم نے وارث بننا ہے۔پس جلسے کے ماحول سے اپنے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا کرنے کی کوشش اور پھر اس کے حصول کے لئے دعا ہمیں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا وارث بنائے گی۔پس کوشش اور دعا یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا وارث بن سکیں۔اور پھر یہ وارث بنا کر ہمیں اللہ تعالی کے فضلوں سے نوازے گی۔اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ میرے حکم کو مانو، میری بات بھی سنو تو وہ کون سی باتیں ہیں جو ہم نے مانتی ہیں؟ اور وہ باتیں کیا ہیں؟ یہ ہم سب کو پتا ہے کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے وہ احکامات ہیں جو قرآن کریم میں ابتدا سے آخر تک موجود ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے زمانے کے امام کو بھیج کر ان احکامات کی گہرائی اور اہمیت کو ہم پر واضح فرما دیا ہے۔پس اس کے بعد ہمارے پاس کوئی عذر نہیں رہ جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کے حوالے سے ہی جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں بندوں کے حق ادا کرنے کی طرف بھی بہت توجہ دلائی ہے۔آپ نے جلسے میں شامل ہونے والوں کو نیکی تقویٰ پر ہیز گاری کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس طرف بھی توجہ دلائی بلکہ بڑے درد سے اپنے ماننے والوں سے یہ توقع رکھی کہ وہ نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں بھائی چارے میں ایک نمونہ بن جائیں۔انکسار دکھانے والے ہوں۔ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ رکھنے والے اور سچائی اور راستبازی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوں۔وہ بدخوئی کرنے اور کج خلقی دکھانے سے دور رہنے والے ہوں۔پس اس لحاظ سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اعلیٰ اخلاق جو ہیں ان میں ہم نمونہ ہیں؟ کیا دوسرے کی خاطر قربانی کرنے میں ہم مثال بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا عاجزی اور انکساری کے ہم میں وہ معیار ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں اور جن کا اللہ تعالیٰ