خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 752
خطبات مسرور جلد 12 752 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء پھیلانے میں مصروف ہیں۔یہی مدرسہ جس جگہ واقع ہے، مدر سے میں خطاب فرما رہے تھے ” یہاں پرانی روایات کے مطابق جن رہا کرتے تھے۔پہلی روایات تھیں کہ یہاں اس جگہ پر جن رہتے ہیں اور کوئی شخص دو پہر کے وقت بھی اس راستہ سے اکیلا نہ گزر سکتا تھا۔اب دیکھو وہ جن کس طرح بھاگے ہیں۔مجھے یاد ہے، ہائی سکول والے میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے اور مشرق کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔اس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی بہت تنگدست باقی سب بطور مہمان آتے تھے۔لیکن اب دیکھو خدا تعالیٰ نے کس قدر ترقی اسے دی ہے۔“ الفضل قادیان 9 فروری 1932 صفحہ 6 جلد 19 نمبر 95) آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جگہ سے بھی نکل کے باہر قادیان کی وسعت ہوتی چلی جارہی ہے۔احمدی بھی خوبصورت مکانات بنا رہے ہیں۔فلیٹ بنا رہے ہیں۔جماعت کے بھی گیسٹ ہاؤسز بن رہے ہیں فلیٹس بن رہے ہیں کوارٹر بن رہے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود کی بستی کی ترقی تو ہم دیکھتے چلے جا رہے ہیں۔اب وہ مخالف ہندو جو مسجد اقصیٰ میں اس وجہ سے غصے میں آتا تھا اور احمدیوں سے لڑتا تھا کہ بچوں کا شور ہوتا ہے اور یہاں زیادہ لوگ آگئے ہیں کیونکہ اس کا گھر مسجد اقصیٰ کے صحن کے شرقی جانب تھا اور ساتھ جڑا ہوا تھا۔آج وہ گھر جو ہے جب مسجد اقصی کی جب extension ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد اقصیٰ کا حصہ بن چکا ہے۔مخالفین کی بائیکاٹ اور ایذارسانی کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بائیکاٹ بھی ہم نے دیکھا۔وہ وقت بھی دیکھا جب چوڑھوں کو صفائی کرنے اور سقوں کو پانی بھرنے سے روکا جاتا۔پھر وہ وقت بھی دیکھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کہیں باہر تشریف لے جاتے تو آپ پر مخالفین کی طرف سے پتھر پھینکے جاتے اور وہ ہر رنگ میں ہنسی اور استہزاء سے پیش آتے۔مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود کیا ہوا۔“ اس وقت حضرت مصلح موعود خطبہ دے رہے تھے کہتے ہیں ” آپ جتنے لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں آپ میں سے پچانوے فیصدی وہ ہیں جو اُس وقت مخالف تھے یا مخالفوں میں شامل تھے مگر اب وہی پچانوے فیصدی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ساتھ شامل ہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جماعت میں جو شور اٹھا۔اس کا کیا حشر ہوا۔اس فتنہ کے سرگروہ وہ لوگ تھے جو صدرانجمن پر حاوی تھے اور تحقیر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا ہم ایک بچہ کی غلامی کر لیں۔خدا تعالیٰ نے اسی بچے کا ان پر ایسا