خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 697 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 697

خطبات مسرور جلد 12 697 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت تیز تھی۔ایک دو سبق ان کے پاس الف لیلہ کے پڑھے پھر چھوڑ دیئے۔اس سے زیادہ ان سے تعلق نہ تھا۔ہاں ان دنوں میں یہ بخشیں خوب ہوا کرتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دایاں ( فرشتہ ) کون سا ہے اور بایاں فرشتہ کون سا ہے۔بعض کہتے کہ مولوی عبد الکریم صاحب دا ئیں ہیں اور بعض حضرت استاذی المکرم خلیفہ اول کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں۔علموں اور کاموں کا موازنہ کرنے کی اس وقت طاقت ہی نہ تھی۔( یعنی بچپن لڑکپن تھا۔سوچ نہیں تھی ) اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے جو حضرت خلیفہ اول مجھ سے کیا کرتے تھے میں نور الدینیوں میں سے تھا۔ہم نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی دریافت کیا تھا اور آپ نے ہمارے خیال کی تصدیق کی۔(یعنی کہ حضرت خلیفہ اول حضرت مسیح موعود کے زیادہ قریبی تھے )۔غرض مولوی عبدالکریم صاحب سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا سوائے اس کے کہ ان کے پرزور خطبوں کا مداح تھا اور ان کی محبت ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معتقد تھا۔مگر جو نہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہوا۔وہ آواز ایک بجلی تھی جو میرے جسم کے اندر سے گزر گئی۔جس وقت میں نے آپ کی وفات کی خبر سنی مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی۔دوڑ کر اپنے کمرے میں گھس گیا اور دروازے بند کر لئے۔پھر ایک بے جان لاش کی طرح چار پائی پر گر گیا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔دنیا کی بے ثباتی ، مولوی صاحب کی محبت مسیح (علیہ السلام ) اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے۔دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بٹاتے تھے۔اب آپ کو بہت تکلیف ہوگی اور پھر خیالات پر ایک پردہ پڑ جاتا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا دریا بہنے لگتا تھا۔اس دن میں نہ کھانا کھا سکا نہ میرے آنسو تھے حتی کہ میری لا ابالی طبیعت کو دیکھتے ہوئے میری اس حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تعجب ہوا اور آپ نے حیرت سے فرما یا محمود کو کیا ہو گیا ہے۔اس کو تو مولوی صاحب سے کوئی ایسا تعلق نہ تھا۔یہ تو بیمار ہو جائے گا۔“ پھر آپ فرماتے ہیں کہ 1908ء کا ذکر میرے لئے تکلیف دہ ہے۔وہ میری کیا سب احمدیوں کی زندگی میں ایک نیا دور شروع کرنے کا موجب ہوا۔اس سال وہ ہستی جو ہمارے بے جان جسموں کے لئے بمنزلہ روح کے تھی اور ہماری بے نور آنکھوں کے لئے بمنزلہ بینائی کے تھی۔اور ہمارے تاریک دلوں میں بمنزلہ روشنی کے تھی ، ہم سے جدا ہو گئی۔یہ جدائی نہ تھی۔ایک قیامت تھی۔پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور آسمان اپنی جگہ پر سے ہل گیا۔اللہ تعالی گواہ ہے۔اس وقت نہ روٹی کا خیال تھانہ کپڑے کا۔صرف ایک خیال