خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 696 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 696

خطبات مسرور جلد 12 696 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء یا دس برس کی تھی۔میں اور ایک اور طالبعلم گھر میں کھیل رہے تھے۔وہیں الماری میں ایک کتاب پڑی ہوئی تھی جس پر نیلا جز دان تھا اور وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔نئے نئے علوم ہم پڑھنے لگے تھے۔اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ اب جبرائیل نازل نہیں ہوتا۔میں نے کہا یہ غلط ہے۔میرے اتنا پر تو نازل ہوتا ہے۔اس لڑکے نے کہا۔جبرائیل نہیں آتا، کتاب میں لکھا ہے۔ہم میں بحث ہو گئی۔آخر ہم دونوں حضرت صاحب کے پاس (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس) گئے۔اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔آپ نے فرمایا۔کتاب میں غلط لکھا ہے۔جبرائیل اب بھی آتا ہے۔“ پھر اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ” بیوقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے میں ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں۔مگر میں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنی زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے، ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک رات ہم صحن میں سورہے تھے۔گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا اور زور سے گر جنے لگا۔اسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گری ہے۔اس کڑک اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے۔جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی اس وقت ہم بھی جو صحن میں سورہے تھے اٹھ کر اندر چلے گئے۔مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اندر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دیئے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے، ان پر نہ گرے۔بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ (آپ) بجلی سے محفوظ رہتے“۔سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 149-150 ) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ” 1906 ء آ یا۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیمار ہوئے۔میری عمر 17 سال کی تھی اور ابھی کھیل کود کا زمانہ تھا۔مولوی صاحب بیمار تھے اور ہم سارا دن کھیل کود میں مشغول رہتے تھے۔ایک دن یخنی لے کر میں مولوی صاحب کے لئے گیا تھا۔اس کے سوا یاد نہیں کہ کبھی پوچھنے بھی گیا ہوں۔اس زمانہ کے خیالات کے مطابق یقین کرتا تھا کہ مولوی صاحب فوت ہی نہیں ہو سکتے وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد فوت ہوں گے۔