خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 680 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 680

خطبات مسرور جلد 12 680 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء ہیں۔بڑی وسیع مساجد ہیں اور اسی طرح تبلیغی سینٹر بھی ہے۔اس وقت انہوں نے مجھے دکھایا کہ یہ تبلیغ سینٹر بھی ہے اور یہ بھی انہوں نے تعمیر کروایا تھا۔اس وقت میں نے ان کو کہا تھا کہ آپ دوسروں کو بھی خدمت کا موقع دیں، ہر چیز آپ خود ہی لئے چلے جارہے ہیں تو بڑی عاجزی سے انہوں نے کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے رہا ہے اس وقت تک میں کوشش کرتا رہوں گا۔بہت سادہ، کشادہ دل مخلص ، متقی، صاحب کشف، تہجد گزار، نرم خو، اعلیٰ اخلاص سے متصف تھے۔خلافت سے بیحد محبت کرنے والے انسان تھے۔کھانے کی بھی بچت کیا کرتے تھے۔گھر میں ایک دن بہت زیادہ کھانا ضائع ہو گیا۔انہوں نے دیکھا تو نماز پڑھتے ہوئے رو پڑے۔وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق دیا ہے اور ہم نے اسے ضائع کر دیا ہے۔اب اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔ان کا ایک بیٹا حافظ اسماعیل احمد ایڈ وسٹی جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل میں شاہد کے سات سالہ کورس میں پڑھ رہا ہے۔کہتا ہے کہ میں حفظ قرآن مکمل کر کے گھر واپس آیا تو خاکسار کا غیر معمولی احترام کرتے تھے۔کہتے ہیں ایک دفعہ میرے سے کوئی ایسی حرکت ہو گئی جس سے آپ نا خوش ہوئے تو یوسف صاحب اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ جو قرآن آپ کی یادداشت میں ہے اس قرآن کا احترام کرتے ہوئے میں آپ کو ڈانٹ نہیں سکتا مگر آپ کو بھی چاہئے کہ اس قرآن کا احترام کرتے ہوئے ایسی حرکتیں نہ کریں۔کہتے ہیں اگر مجھے ڈانٹ دیتے تو مجھ پر اتنا اثر نہ ہوتا جتنا اس بات نے مجھ پر اثر چھوڑا۔کہتے ہیں میرے والد اور والدہ نے میری تربیت کی کہ مبلغ بنوں اور جب کبھی پیسے لینے جاتا تو تھوڑے پیسے دیتے اور مجھے کہتے کہ تم نے مبلغ بننا ہے اور ہر مبلغ کو چاہئے کہ تھوڑے پیسوں میں اکتفا کرے اور فضول خرچی سے اجتناب کرے۔باریک باریک باتوں کی طرف مجھے توجہ دلاتے۔ایک مرتبہ آپ کے ساتھ وضو کر رہا تھا۔آپ نے مجھ سے پہلے وضو کر لیا اور کہا کہ حافظ صاحب! آپ نے مبلغ بننا ہے اور مبلغین کی بہت ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور وقت کم ہوتا ہے اس لئے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی عادت ڈالیں۔تو یہ مبلغین کے لئے بھی ایک نمونہ تھے۔جیسا کہ میں نے کہا تبلیغ بے انتہا کیا کرتے تھے تبلیغ کا بہت شوق ہگن اور تڑپ تھی۔سادگی بے انتہا کی تھی۔یہ میں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ فراخی بھی عطا فرمائی اور اس سے انہوں نے جماعت پر خرچ کیا۔مساجد تعمیر کروائیں اور یہ جو آخری سفر تھا یہ بھی جیسا کہ بیان ہوا ہے مسجد کی تعمیر کے لئے ہی اختیار کیا۔قرآن کریم سے بھی ان کو عشق تھا۔گھانا کی جو ایک علاقائی زبان بچوئی (Twi) ہے اس میں قرآن کریم کے ترجمے کی بھی ان کو توفیق ملی۔مالی قربانی میں تو خیر صف اول میں تھے ہی۔وہاب آدم صاحب کے بیٹے نے لکھا ہے اور بہر حال یہ غیر