خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 660 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 660

خطبات مسرور جلد 12 660 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07 نومبر 2014 ء بمطابق 07 نبوت 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِهَا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (آل عمران : 93) تم ہرگز نیکی کو پانہیں سکو گے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی واسط علم تعبیر الرویا ء میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے ( خواب میں یہ دیکھے ) کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لئے فرما یالَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا هما تُحِبُّونَ (آل عمران : 93) حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے۔کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جز و ہے جس کے بڑوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثا ر ضروری شے ہے اور اس آیت