خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 658
خطبات مسرور جلد 12 658 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء اور یہودیوں اور عیسائیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی بھی اس وجہ سے کی۔باوجود اس کے کہ عیسائی اور یہودی آپس میں سخت مخالفت کرنے والے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دونوں اکٹھے ہو جاتے تھے اور اب بھی ہو جاتے ہیں۔اسی سوچ اور تعلیم کی وجہ سے یہودیوں نے مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیفیں پہنچا ئیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیشہ ان کے لئے خیر خواہی کے جذبے کا اظہار ہوا سوائے اس کے جہاں حکومت کے قانون کو نافذ کرنے کے لئے سزا کی ضرورت تھی اور وہ بھی دوسروں کے لئے خیر خواہی تھی۔ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ اس زمانے میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کے طور پر اور ایک خاص نسبت کے ساتھ بھیجا گیا ہے تو تکلیفوں اور دشمنیوں کی یہ نسبت آپ کے ساتھ بھی قائم ہونی ضروری تھی اور ہے۔پس ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے والے ہیں ہم نے مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا ہے اور کر رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے ہم نے دنیا کی خیر اور بھلائی ہی چاہتی ہے۔یہ باتیں سن کر شاید بعض ذہنوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ شاید مخالفتیں ہمیشہ ہی ہمارے ساتھ لگی رہنی ہیں۔ایسی بات بھی نہیں ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ غلبے کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہیں اور یہ غلبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملنا ہے۔انشاء اللہ۔دنیاوی اسباب پر بھروسہ کر کے اور دنیا داروں پر بھروسہ کر کے ہم کسی بھی طرح اپنے کام کو پورا نہیں کر سکتے۔ہم دنیا داروں پر بھروسہ کر بھی کس طرح سکتے ہیں کیونکہ خیر امت تو ہمیں کہا گیا ہے۔خیر ہم نے بانٹنی ہے، نہ کہ ہم نے خیر لینی ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے یہ غلبہ ملنا ہے تو ان فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی ہوگی اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ جو کام لگایا ہے اس کو انتہا تک پہنچانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ہم نے جو کچھ کرنا ہے اپنی کوشش پر انحصار کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرتے ہوئے کرنا ہے۔دوسروں پر انحصار یا دنیاوی طاقتوں پر کسی بھی قسم کا تکیہ ہمارا زوال ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے الہی جماعتیں دنیاوی طاقتوں سے مدد نہیں لیا کرتیں۔ہماری کوششیں کیا ہیں جن سے ہم کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ وہ خیر کا پیغام ہے جس کے بارے میں پہلے میں ذکر کر چکا ہوں جو ہر طبقے کے لوگوں کو ہر طبقے کے احمدی نے پھیلانا ہے اور اس کی ضرورت ہے۔تبلیغ کے کام میں اپنے آپ کو ڈالنا ہے۔مزدور ہے، تاجر ہے، ڈاکٹر ہے، وکیل ہے، سائنسدان ہے، استاد ہے، دوسرے زمیندار ہیں، ہر ایک کو حکمت سے خیر خواہی کا یہ پیغام اپنے اپنے