خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 653
خطبات مسرور جلد 12 653 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء تب بھی ہم نے اپنے ذمے کام میں کمی نہیں آنے دینی کیونکہ دنیا کو سنبھالنے کا کام ہمارے سپرد ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام خیر امت رکھا ہے تو ہم نے خیر بانٹنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹنا اور یہ خیر اسلام کا پیغام پہنچاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف دنیا کو بلانا ہے۔اس سے بڑھیا خیر اور کیا ہوسکتی ہے؟ جتنا شر اور جتنی غلاظت اور جتنی ہوس پرستی اور جتنی خدا تعالیٰ کے احکامات کی تضحیک اس زمانے میں ہو رہی ہے اور حکومتیں اور میڈیا بھی جس طرح اس کی تشہیر کر رہے ہیں دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔آج شیطان جس زور سے حملے کر رہا ہے شاید پہلے کبھی نہ ہوئے ہوں کہ ایک ہی وقت میں دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک سیکنڈز کے اندراندر غلاظت بھری تصویریں کہانیاں اور آواز میں پہنچ جاتی ہیں۔ہم خیر کی آواز بلند کرتے ہیں تو اکثریت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور جو برائی کی آواز ہے وہ فوراً اپنا اثر دکھا رہی ہوتی ہے۔اور اگر کوئی ہماری بات پر توجہ دیتا بھی ہے تو ان میں سے بہت سے ایسے ہیں بلکہ اکثریت ایسی ہے جو ایسا رویہ رکھتے ہیں جیسے بچوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے کہ شاباش تم بڑا اچھا کام کر رہے ہو اور پھر یہ لوگ لاتعلق ہو جاتے ہیں اور ان کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں جو بھلائی سے دور لے جانے والے ہیں۔پس ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ہمارے مقاصد کے حصول کی انتہا نہیں ہے کہ ذراسی تعریف پر بچوں کی طرح ہم خوش ہو کر بیٹھ جائیں۔چند آدمیوں کو پیغام پہنچا کر ہم سمجھیں کہ ہم نے بہت بڑا کام کر لیا ہے۔بلکہ ہم نے دنیا کو خیر پہنچانے کے لئے برائیوں کو دُور کرنے کی کوششوں کو اپنی انتہا تک پہنچانا ہے۔کوئی دنیاوی مخالفت کوئی دنیا وی روک چاہے وہ مسلمانوں کی طرف سے ہو یا غیر مسلموں کی طرف سے یا کسی بھی طرف سے ، دہریوں کی طرف سے اس کو ہم نے اس طرح اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرنی ہے جس طرح تیز ہوا ایک تنکے کواڑ ا کر لے جاتی ہے۔پس اس سے ہمیں اندازہ کر لینا چاہئے کہ ہمیں کتنی جامع ٹھوس اور شدت سے کوشش کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ہی ہر احمدی کو اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کے مطابق اس میں حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام تمام دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانا اور یہ خیر اور بھلائی بانٹنا ہے اور یہی ہمارا کام ہے۔ہمیں یہ فکر نہیں کرنی چاہئے کہ دنیا ہماری آواز پر کان نہیں دھرتی سنتی نہیں، تو جہ نہیں دیتی۔ہم خیر کی طرف بلاتے ہیں اور وہ شر میں اور بھی زیادہ تیز ہو جاتے ہیں اور ہمارے خلاف یہ شر کے جو عمل ہیں یہ ہر طرف سے ہیں۔خاص طور پر اس وقت مسلمانوں میں تو جماعت احمدیہ کی مخالفت اتنی زیادہ ہے کہ تمام حدود کو تو ڑ گئی ہے۔بیشک ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے حق میں اب تھوڑی بہت آواز