خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 652 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 652

خطبات مسرور جلد 12 652 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 اکتوبر 2014ء بھی نام نہاد مذہب پر عمل کرنے والے ہیں ان کی طرف سے مخالفتیں ہوں گی۔اس لئے یہ کبھی نہیں سمجھنا چاہئے کہ ان پڑھے لکھے ملکوں میں ہمیشہ ہمیں خیر کا جواب خیر سے ملے گا۔ابھی بھی ایسے چرچ ہیں جہاں پادری ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ان کی انتظامیہ چرچ کی حیثیت سے جماعت کے ساتھ مل بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتی۔فروری میں جو مذاہب کا نفرنس ہوئی ہے اس میں چرچ آف انگلینڈ کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے جواب تک نہیں دیا اور نہیں آئے۔دوسرے ممالک میں بھی کئی جگہ ہماری تبلیغی ٹیمیں جاتی ہیں تو چرچ چھوٹی جگہوں پر ایک دو مرتبہ تو اپنے ہاں فنکشن کرنے کی ، استعمال کرنے کی انہیں اجازت دے دیتے ہیں کہ لوگوں کو جمع کر کے تم اپنا جو مدعا اور مقصد بیان کرنا چاہتے ہو کر دو۔لیکن جب دیکھتے ہیں کہ بار بار ہمارا وہاں جانا ہے اور لوگوں کا رجحان یہ باتیں سنے کی طرف ہو رہا ہے تو پھر مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح لا مذہب یاد ہر یہ مصنفین ہیں جو بڑی شدت سے اسلام کی مخالفت میں لکھتے ہیں اور جب جماعت ان کا جواب دے تو ہمیں بھی مخالفانہ جواب آتے ہیں اور جوں جوں جماعت کی تعداد بڑھے گی یہ مخالفت بھی بڑھتی جائے گی۔لیکن انبیاء کو بھی یہ یقین ہوتا ہے کہ آخر کار غلبہ ان کو ملنا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ یقین ان میں پیدا کیا ہوتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ یقین تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ پر واضح فرمایا تھا کہ غلبہ آپ کا ہے اور اسی بنا پر ہمیں بھی یقین ہے کہ غلبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنا ہے انشاء اللہ۔کیونکہ خدا تعالیٰ جھوٹے وعدوں والا نہیں ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے بے شمار فعلی شہادتیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کو کسی بھی طرح تخفیف کی نظر سے دیکھیں یا خدا تعالیٰ پر بدظنی کریں۔جماعت پر ایسے ایسے ہولناک حالات آئے کہ دشمن سمجھتا تھا کہ اب تو جماعت ختم ہوئی کہ ہوئی مگر نتیجہ کیا نکلا کہ دشمن ان حالات میں اپنی تمام تر طاقتوں کے باوجود نا کام ہوا اور جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے حالات سے سرخرو ہو کر نکلی۔پس دنیا ہمارے سے جو چاہے سلوک کرے یہ اُن کا کام ہے لیکن خدا تعالیٰ کی تائیدات کیونکہ ہمارے ساتھ ہیں اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکامات دیئے ہیں وہ پورے کرنے ہیں اس لئے بہر حال ہم نے ان حکموں پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر بھی عمل کرنا ہے اور دنیا کی خیر چاہتے ہوئے اپنے کام کو آگے بڑھاتے چلے جانا ہے۔ہمارے جذبات تمام دنیا کے لئے نیک جذبات ہونے چاہئیں اور ہمارے جذبات نیک ہیں۔لیکن اگر اس کے باوجود دنیا ہمیں دکھ پہنچاتی ہے تو