خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 626 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 626

خطبات مسرور جلد 12 626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اکتوبر 2014ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مسجد میں بیٹھے تھے۔لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے۔اسی اثناء میں تین آدمی سامنے آئے۔دو آدمی تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آگئے اور ایک ان میں سے چلا گیا۔وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔ان میں سے ایک جو تھا اس نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب حلقے میں خالی جگہ پڑی ہے وہ جلدی سے بڑھ کے آگے آیا اور آپ کے قریب آ کے بیٹھ گیا۔دوسرا جو تھا وہ لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا جہاں کھڑا تھا وہیں اس کو تھوڑی سی جگہ ملی تو بیٹھ گیا۔تیسرا جو تھاوہ سمجھا کہ جگہ نہیں ہے وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان تین آدمیوں کی حالت نہ بتاؤں۔ان میں سے ایک نے تو اللہ کے پاس جائے پناہ لی اور اللہ نے اسے پناہ دی جو میرے قریب ہو کے بیٹھ گیا تھا اور وہ جو دوسرا تھا اس نے شرم کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے شرم کی یعنی اس کا وہاں اس مجلس میں بیٹھنا اس کے گناہوں کی دوری کا باعث بنا۔اس نے حیا کی اللہ تعالیٰ نے بھی اس کے گناہوں کو معاف کیا ، اور حیا کی۔اور جو تیسرا تھا اس نے منہ پھیر لیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔(صحیح البخاری کتاب العلم باب من قعد حيث ينتهى به المجلس۔۔۔حدیث نمبر 66) اب بظاہر تو یہ تین آدمیوں کا آنا، بیٹھنا اور ان میں سے ایک کا چلے جانا معمولی بات ہے کیونکہ اس تیسرے شخص کے خیال میں تھا کہ یہ آواز مجھ تک نہیں پہنچ رہی اس لئے بیٹھنے کا فائدہ نہیں ہے۔لیکن چونکہ یہ افعال، ان تینوں کے جو یہ کام تھے، یہ جو فعل تھا اس کا معاملہ دل سے تھا، دل سے پیدا ہوئے تھے ، دل کی کیفیت کا اظہار تھا اور اللہ تعالیٰ کی نظر بھی دل پر ہوتی ہے اور اس کے انعامات دل کی حالت کے مطابق ہوتے ہیں اس لئے دل کی حالت جزا اور نتیجے کے لحاظ سے بڑی اہم ہے۔یہ چیز یا درکھنے والی ہے۔پس یہاں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے معاملہ کیا۔اللہ تعالیٰ تو دلوں کے حال جانتا ہے اس نے ان کی دل کی حالت سے دیکھ لیا کہ کون دل کے معاملے میں کس حد تک آگے بڑھا ہے اور کس نے سستی دکھائی ہے۔پہلے دو کو ان کے درجے کے مطابق انعام ملا اور تیسرا محروم رہا بلکہ ناراضگی کا مور د بنا۔پس مومن کو چاہئے کہ دیکھ لے کہ اس کے سامنے جو مقصد ہے اس کے لئے اس نے کس حد تک قربانی کی ہے اگر وہ اس حد تک قربانی کر دے جس کی ضرورت ہے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا اور اس جزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔قربانی ہمیشہ یا تو طاقت کے مطابق ہوتی ہے یا ضرورت کے مطابق۔یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ طاقت کے مطابق قربانی دی جائے۔بعض دفعہ شریعت صرف اتنی قربانی کا تقاضا کرتی ہے جتنی