خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد 12 625 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 اکتوبر 2014ء مضمون ہے کس طرح سمجھا ہے یا ہمیں سمجھنا چاہئے۔ہم نے اللہ تعالیٰ کا حق قائم کرنے کے ساتھ انسانیت کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں اور دین اسلام کی اشاعت اور قیام کے لئے کوشش بھی کرنی ہے پھر جتنا چاہے ہم دنیاوی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں ہمارے لئے جائز ہے۔اسلام کا خوبصورت پیغام دنیا کو پہنچانے کی ذمہ داری ہمارے سپرد کی گئی ہے۔اسے ہم نے ادا کرنا ہے۔قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں اشاعت ہمارے ذمہ کی گئی ہے۔تو اس کا حق ہم نے ادا کرنا ہے۔مساجد کی تعمیر ہم نے ہر جگہ کرنی ہے تا کہ ہم حقیقی عبادت گزار بنانے والے بن سکیں تو اس کا حق ادا کرنے کے لئے دنیا کے ہر ملک میں ہم نے منصوبہ بندی کرنی ہے۔انسانیت کی قدروں کو ہم نے اعلیٰ ترین نمونوں پر قائم کرنا ہے۔اگر یہ سب کچھ ہم دنیا کمانے کے ساتھ کر رہے ہیں تو دنیا کمانا بھی ہمارا دین ہے۔اگر یہ نہیں تو ہمارے جائز کام بھی اللہ تعالیٰ کی نظر میں نا جائز ہیں۔اگر نیا آئی فون آگیا ہے یا کسی کے پاس کوئی پیسے آئے تو کار خریدنی ہے یا اور سوٹ خریدنا ہے اور ان چیزوں کی خاطر ہم اپنے چندوں کو پیچھے ڈال رہے ہیں تو یہ جائز چیز میں ہونے کے باوجود ہمارے لئے ناجائز بن جاتی ہیں۔اگر ایک جگہ پر مسجد کی تعمیر کے لئے کوشش ہو رہی ہے وہاں ہم اپنی دوسری ترجیحات کو فوقیت دے رہے ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ ہمارے لئے یا ایک آدمی کے لئے یا عام حالات میں جائز چیزیں ہیں لیکن ایسے وقت میں پھر نا جائز ہو جاتی ہیں۔جنگ اُحد میں جب یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو اس وقت ایک صحابی جو کئی دن سے فاقے سے تھے جنگ لڑ کے ہٹے تھے۔اس وقت فتح کی حالت پیدا ہو چکی تھی۔ان کے پاس کچھ سوکھی کھجور میں تھیں۔وہ سوکھی کھجوریں کھا رہے تھے۔یہ اس وقت ان کا کھانا تھا جب یہ بات انہوں نے سنی۔یہ اطلاع ان کو پہنچی تو فوراً انہوں نے کھجور میں پھینک دیں اور فوڑا جنگ میں کود پڑے اور جا کر شہید ہو گئے۔اس وقت انہوں نے اپنے پیٹ کی اور بھوک کی فکر نہیں کی بلکہ ان کھجوروں کا کھانا بھی گناہ سمجھا کیونکہ اس وقت دین یہ تقاضا کر رہا تھا کہ کھجور میں کھانا گناہ ہے۔پس جو کام دین کے راستے میں روک ہے وہ خواہ کتنا ہی اعلیٰ اور عمدہ کیوں نہ ہو نا جائز ہے اور جو دین کے راستے میں روک نہیں وہ خواہ کتنا ہی آرام و آسائش والا ہو تو وہ برا نہیں، وہ جائز بن جاتا ہے۔پس ہمیں وہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ہمارے دلوں کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر نے والا بنائے۔اللہ تعالیٰ تو دلوں کے حال جانتا ہے اور دلوں کے حال جاننے کے بارے میں یہ روایت ہے کہ