خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد 12 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء لوگ عموماً اپنے نام نہیں لکھتے یا فرضی نام لکھتے ہیں۔اگر وہ نام لکھ بھی دیں تو تب بھی میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس بارے میں ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی بے شک گالیاں دیں۔ہاں ان پر رحم ضرور آتا ہے اور مزید استغفار کا مجھے موقع مل جاتا ہے۔میرے لئے تو یہ فائدہ مند ہوتا ہے۔سزا یا تعزیر تو دوسروں کے حقوق غصب کرنے یا شریعت کے حکم کی نافرمانی کرنے پر ملتی ہے اور بڑے دکھ سے یہ سزا دی جاتی ہے، کوئی خوشی سے سزا نہیں دی جاتی۔جس دن میری ڈاک میں نظارت امور عامہ یا امراء ممالک کی طرف سے کسی کی تعزیر کی معافی کی سفارش ہوتی ہے، جو غلطی کی تھی اس کا مداوا ان لوگوں نے کر دیا ہوتا ہے تو اس دن سب سے زیادہ میری خوشی کا دن ہوتا ہے۔پس جہاں میرے فرائض میرے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں وہاں مجھے مجبور نہ کریں۔ہاں میں یہ بھی ضرور کہوں گا کہ فریقین اپنے معاملات جب قضا میں لاتے ہیں اور قضایا انتظامیہ واقعات کی روشنی میں ان کا فیصلہ کرتے ہیں اور ایک فریق پر ذمہ داری ڈالی جاتی ہے کہ حقوق ادا کرے یا اس حد تک ذمہ داری ڈالی جاتی ہے کہ اگر مالی معاملہ ہے تو اتنی رقم ادا کر و یا دوسری ذمہ داریاں ادا کرو تو جس فریق نے بھی رقم وصول کرنی ہو، جس نے حق لینا ہو وہ دوسرے فریق کے مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے جو زیادہ سے زیادہ سہولت دے سکتا ہے اس کو دینی چاہئے وہاں پہ ضد میں نہیں کرنی چاہئیں۔یہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم ہے کہ بلا وجہ کسی انا میں پڑ کر ظلم نہیں کرنا چاہئے۔بہر حال ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر گزار ہونا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ ہم لوگ اس شخص کی اتباع کرنے والے ہیں جس کا نام سیح رکھا گیا ہے۔یہ سوچنے والی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود کو سیح کہا گیا ہے تو کیوں کہا گیا۔وہ کون سی چیز ہے جو مسیح کو دوسرے انبیاء سے ممتاز کرتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام باتیں، تمام خصوصیات ،تمام صفات دوسرے تمام انبیاء سے زیادہ ہیں۔ان کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ آپ کامل انسان اور آپ کی شریعت کامل اور مکمل شریعت ہے۔لیکن آپ کے علاوہ جب ہم باقی انبیاء میں دیکھتے ہیں تو ہر نبی میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔پس مسیح کی جو خاص امتیازی چیز ہے وہی مسیح موعود علیہ السلام کی مسیح سے تشبیہ کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔اس کی وضاحت جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے وہ بڑی دل کو لگنے والی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی خصوصیت وہ نرمی کی تعلیم ہے جو حضرت مسیح نے پیش کی اور بائبل تو یہاں تک کہتی ہے کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا گر تا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے۔اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اس