خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 614

خطبات مسرور جلد 12 614 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اکتوبر 2014ء کرے۔اگر کسی کو کوئی جذباتی تکلیف پہنچائی ہے تو اس کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کم از کم اپنے اندر ندامت اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں کہ میں نے کیا کیا ؟ ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ سوچ رکھتے ہیں یا اس طرح سوچتے ہیں۔اگر ظلم وقتی جوش کے تحت ہو گیا ہے تو جوش کا وقت گزر جانے پر ایک مومن کو اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔اگر یہ ازالہ نہیں کرتے اور ندامت محسوس نہیں کرتے بلکہ سارے حالات گزر جاتے ہیں اور پھر بھی اثر نہیں ہوتا تو پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے یہ حقیقی ایمان نہیں۔یہ دکھاوے کا ایمان ہے۔پانی کے اس بلبلے کی طرح ہے جس کے اوپر پانی ہے اور اندر صرف ہوا ہے۔اگر تمام پانی ہوتا تو پھر وہ پانی کی کیفیت میں ہوتا ، پھر اس میں ہوا نہیں ہوتی۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ کتنی دفعہ ہم پر اگر زیادتی بھی ہوئی ہے تو ہم نے برداشت کیا ہے اور مغلوب الغضب ہو کر جواب نہیں دیا یا اگر عہد یدار ہیں تو کتنی دفعہ ایسے مواقع پیدا ہوئے ہیں کہ دوسرے نے زیادتی کی اور انہوں نے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ دیا۔اس زیادتی کی کوئی پرواہ نہیں کی۔برداشت یہ نہیں ہے کہ کسی طاقتور کا مقابلہ ہو اور جواب نہ دیا ہو اور کہ دیا کہ ہماری بڑی برداشت ہے بلکہ برداشت یہ ہے کہ سزا دے سکے اور پھر سزا نہ دے۔یہاں یہ بھی واضح ہو کہ انتظامیہ انصاف اور شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اگر کسی کو سزا کی سفارش کرتی ہے، تعزیری کارروائی کرتی ہے تو یہ اس زمرہ میں نہیں آتا۔کیونکہ اگر کسی کی غلطی ہے اور اُس کو اس کی وجہ سے سزا مل رہی ہے تو اس قسم کا جو عفو ہے وہ یہاں گناہ بن جاتا ہے۔اگر کوئی اپنے معاملات میں دست درازی کرتا ہے ظلم کا مرتکب ہوتا ہے تو حاکم یا قاضی سزا دیتا ہے جس طرح بچوں کو ماں باپ یا استاد سزا دیتے ہیں۔یہ سزا کسی جرم میں کسی کو ملتی ہے تو اس لئے کہ اس نے شریعت کے حکم کی نافرمانی کی یا دوسروں کے حقوق تلف کئے۔یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ بعض لوگ زیادتی بھی کرتے ہیں، شریعت کے قوانین کی پابندی بھی نہیں کرتے ، دوسروں کے حقوق بھی غصب کرتے ہیں اور پھر نظام جماعت جب اُن پر تعزیر کرتا ہے تو میری یہ باتیں سن کر ، پہلے بھی کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں، اس بارے میں پھر مجھے لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور اب بھی شاید شروع کر دیں گے کہ آپ نے عفو اور درگزر پر خطبہ دیا ہے۔ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ، ہمیں بھی معاف کر دیا جائے۔تو اس بارے میں پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔بعض مجھے گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط بھی لکھ دیتے ہیں ان کے لئے بھی کبھی میرے دل میں غصہ نہیں آیا کبھی غصے کے جذبات پیدا نہیں ہوئے۔ایسے