خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 611 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 611

خطبات مسرور جلد 12 611 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اکتوبر 2014ء ان کی نمازیں اور عبادتیں بھی صرف دکھاوے کی ہیں کیونکہ ان عبادتوں نے ان کے اندر وہ تبدیلی پیدا نہیں کی جو ایک مومن کا خاصہ ہے۔ان میں وہ عاجزی نہیں آئی جو انہیں خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہے۔اگر غصے کی حالت میں انسان اپنی ویڈیو بنوا لے۔آج کل تو ویڈیو بڑی آسانی سے ہر جگہ میسر ہے تو ایک عقلمند انسان ہوش کی حالت میں اسے دیکھ کر خود ہی شرمندہ ہو جائے کہ اس کی کیا حالت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں اس بارے میں جو نصائح فرمائی ہیں وہ میں پیش کرتا ہوں کہ مغلوب الغضب ہونے والوں کی کیفیت کیا ہو جاتی ہے۔ان کے دماغ عقل اور حکمت سے خالی ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ پاگل پن تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔اس بارے میں فرماتے ہوئے کہ جوش اور غصہ جو ہے جب بڑھ جائے تو عقل ماری جاتی ہے اس لئے صبر کی طرف توجہ دلائی کیونکہ صبر سے عقل اور فکر کی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔غصہ اور جوش کی حالت میں چونکه دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں۔اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 180 ) پھر ذرا ذراسی بات پر غصے میں آنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا دل حکمت سے عاری ہو جاتا ہے۔فرمایا: یاد رکھو جو شخص سختی کرتا اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آکر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمہ سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔پھر اس سے اچھی اور نیک باتیں نہیں نکلتیں۔محروم رہ جاتا ہے۔” غضب اور حکمت دو نو جمع نہیں ہو سکتے۔جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دیئے جاتے۔غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پورا جنون ہو سکتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 126-127)