خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 610

خطبات مسرور جلد 12 610 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اکتوبر 2014ء سہولتیں چند روزہ ہیں۔اپنے انجام کی ہمیں فکر کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم کس طرح حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں۔جماعت کو میں اکثر توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ ہمیں اپنے اخلاقی معیار بلند کرنے چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی اناؤں کے جال میں نہیں پھنسنا چاہئے۔جماعت کے ہر فرد کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اخلاق اور انسانیت کا معیار بنیں۔بے شک بعض اوقات ہم جذبات کا اظہار بھی کر دیتے ہیں ، غصہ آ جاتا ہے یہ انسانی طبیعت ہے لیکن ایک مومن کو اللہ تعالیٰ نے کچھ حکم بھی دیئے ہوئے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت انہیں خرچ کریں۔میں نے میاں بیوی کے معاملات کی مثال دی ہے تو دیکھیں خطبہ نکاح میں پڑھی جانے والی آیات میں کس طرح اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف احکام دیئے ہیں جن پر میاں بیوی دونوں کو عمل کرنا ضروری ہے لیکن اکثر لوگ ان باتوں کو سامنے نہیں رکھتے۔سمجھتے ہیں نکاح ہو گیا شادی ہوگئی اور بس۔پس جو لوگ اپنی باتوں پر اڑے رہتے ہیں بلکہ ان پر فخر رکھتے ہیں۔سامنے رکھنا تو ایک طرف رہا جب مسائل اٹھتے ہیں تو اپنی بات پر ہی اڑے رہتے ہیں اور یہ فخر ہوتا ہے کہ ہم اس طرح اپنی بات پر قائم رہے۔ہم نے فلاں کو کس طرح نیچا دکھا دیا۔اپنے جذبات کو بیج سمجھتے ہیں اور دوسرے کے جذبات کی پرواہ نہیں کرتے اور یہی کہتے ہیں کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ صحیح ہے کیونکہ ان کے خیال میں دوسرے شخص کا علاج ہی یہ تھا جو انہوں نے سوچا اور جو انہوں نے کیا۔اس کے علاوہ ان کے نزدیک اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔اگر ایسے لوگوں کی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذہب جسے انہوں نے مانا ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ مذہب کچھ کہتا ہے وہ کچھ اور کہہ رہے ہیں۔یہ بیشک وہ کہہ سکتے ہیں کہ مذہب کا یہ حکم ایسا ہے جس پر ہمارے سے عمل مشکل ہے لیکن یہ کہنا کہ اس حکم کو توڑے بغیر اور جو کچھ ہم نے کیا ہے اس کے کئے بغیر گزارہ ہی نہیں ہوسکتا تھا ، مذہب کو جھوٹا کہنے والی بات ہے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ غصہ دباؤ۔حسن اخلاق سے پیش آؤ۔اپنی غلطیوں پر ضد نہ کرو۔بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرو بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ہمیں یہاں تک فرمایا ہے کہ جو بندوں کے حق ادا نہیں کرتا ، ان اخلاق کے مطابق اپنا نمونہ نہیں دکھاتا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتائے ہیں جن کا اپنا نا ایک مومن کے لئے ضروری ہے تو پھر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کا بھی حق ادا نہیں کرتے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 350)