خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 602 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 602

خطبات مسرور جلد 12 602 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2014ء خدمت خلق کا بڑا شوق تھا۔کشمیر کا زلزلہ آیا تو میڈیکل ٹیم کے ساتھ وہاں گئے۔22 دن تک خدمت کا موقع ملا۔بہر حال قربانی کے میدان میں صف اول میں سے تھے۔مہمان نواز تھے۔اپنے ساتھیوں اور جماعتی عہد یداران کی دعوت کا اہتمام کرتے تھے۔انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔خلافت سے انتہائی محبت، عشق کا تعلق تھا۔اطاعت کا غیر معمولی جذبہ رکھتے تھے۔باجماعت نمازی تھے نفل پڑھنے والے تھے۔درود پڑھنے والے تھے۔ہمیشہ نرم لہجے میں بات کرتے۔ہمیشہ درگزر سے کام لیتے۔اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے اور بڑے باوقار اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔سینتالیس سال کی عمر تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور سیکرٹری مال کہتے ہیں اور سیکرٹری وصایا نے بھی بتایا کہ ڈاکٹر صاحب چندہ کی ادائیگی میں ہمیشہ فعال تھے۔ہمیشہ اپنے بجٹ سے زیادہ اور بروقت چندہ وصیت ادا کیا کرتے تھے۔اعلیٰ تعلیم بچوں کو دلوانے کا شوق تھا۔ان کی دو بیٹیاں اس وقت میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔دو بیٹے بھی زیر تعلیم ہیں۔درود شریف کی ، دعاؤں کی میں نے بات کی۔ان کو پان کھانے کی عادت تھی تو انہوں نے پان کھانے کی عادت اس لئے ترک کر دی کہ جب ہر وقت ، درود شریف پڑھنا ہو، زیادہ ورد کرنا ہو تو پان جو ہے اس میں روک بنتا ہے۔ان کے چھوٹے بھائی محمد بلال نے شہادت سے چند روز قبل ایک خواب میں دیکھا کہ ان کے بھائی ایک چھت پر مکرم ڈاکٹر عبدالمنان صاحب صدیقی شہید کے ساتھ ایک طرف کونے میں کھڑے ہیں اور باقی لوگ دوسری طرف کھڑے ہیں۔اسی طرح ڈاکٹر صاحب شہید کی والدہ نے خواب میں دیکھا کہ تمام بہن بھائیوں میں یہ اونچے مقام پر کھڑے ہیں۔شہید مرحوم کے لواحقین میں والد مکرم جلال احمد صاحب اور والدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے علاوہ اہلیہ محمودہ بیگم، دو بیٹیاں عزیزہ مدیحہ بلوچ جو اسد اللہ رند صاحب مربی سلسلہ کراچی کی اہلیہ ہیں۔یہ کراچی میں میڈیکل کی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔اور عزیزہ ناجیہ نگار، اکیس سال، یہ بھی حیدر آباد میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔دو بیٹے ہیں۔اٹھارہ سال کا ایک بیٹا ہے ایف ایس سی کی ہے اور اب آگے مزید انٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا ہے۔ایک بیٹا پندرہ سال کی عمر کا ہے۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو ، بیوی کو ، والدین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور بچوں کا حامی و ناصر ہو اور جو خواہشات یہ اپنے بچوں کے بارے میں رکھتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو پورا فرمائے۔مبشر صاحب شہید کے بارے میں عطاء الوحید باجوہ صاحب جو جامعہ ربوہ میں پڑھاتے ہیں کہتے ہیں کہ میرا تعلق بھی میر پور خاص سے ہے۔وہاں ہمارا گھر مکرم ڈاکٹر صاحب کے گھر کے قریب ہی ہے۔اس وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔بہت خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔