خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد 12 601 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 اکتوبر 2014ء واقع اپنی کلینک پر معمول کے مطابق مریض چیک کر رہے تھے۔خواتین کی طرف سے چیک کر کے مرد حضرات کی طرف آئے اور ابھی کرسی پر نہیں بیٹھے تھے کہ دو نا معلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے اور ان میں سے ایک شخص نے کلینک میں داخل ہو کر مکرم مبشر احمد صاحب پر فائرنگ کردی۔فائرنگ کے نتیجہ میں پانچ چھ گولیاں شہید مرحوم کے سر اور سینے میں لگیں جس سے موقع پر ہی ان کی وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ڈاکٹر صاحب کے خاندان کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔1954ء میں ان کے والد مکرم محمد جلال صاحب نور نگر ضلع عمرکوٹ سندھ شفٹ ہو گئے تھے۔مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے والد مکرم محمد جلال صاحب کے ذریعے 1954ء میں ہوا تھا۔انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ڈاکٹر صاحب شہید کے والد جب احمدی ہوئے تو گھر والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا جس پر ان کو مکرم غلام رسول صاحب آف محمد آباد نے پناہ دی اور اپنی بیٹی محترمہ مریم صدیقہ صاحبہ کے ساتھ شادی کر دی کہ محنتی اور مخلص انسان ہے۔شادی کے بعد محمد جلال صاحب کنری چلے گئے۔وہاں انہوں نے آٹا چکی کا کام شروع کیا۔1974ء میں مخالفین نے ان کی آٹا چکی کو آگ لگادی۔گھر کا سامان لوٹ لیا۔گھر پر پتھراؤ کیا۔بہر حال شہید کے والد نے بھی سختیاں دیکھیں۔یہ شہید 1967ء میں کنری میں پیدا ہوئے تھے۔میٹرک تک تعلیم محمد آباد ضلع عمرکوٹ میں حاصل کی۔وہاں جماعت کی زمینیں ہیں۔اس کے بعد یہ کراچی اپنی نانی کے پاس چلے گئے۔ایف۔اے پاس کیا۔پھر ڈی ایچ ایم ایس کا کورس کیا۔ڈسپنسری کا کورس کیا اور شادی کے بعد پھر 1995ء میں بچوں کی تعلیم کی خاطر میر پور خاص شفٹ ہو گئے۔کچھ عرصے کے بعد وہاں کلینک کا آغاز کیا۔اللہ تعالیٰ نے شہید مرحوم کے ہاتھ میں بہت شفا رکھی تھی۔علاقہ کے وڈیروں اور بعض افراد کے فیملی ڈاکٹر کے طور پر تھے۔ہومیو پیتھک علاج بھی کرتے تھے۔تمام لوگوں کو ان کے احمدی ہونے کا علم تھا مگر کبھی کسی نے مخالفت نہیں کی حتی کہ کلینک کے ساتھ غیر از جماعت کی مسجد ہے۔وہاں کے امام مسجد نے بھی کبھی جماعت کی مخالفت کی کوئی بات نہیں کی بلکہ ڈاکٹر صاحب سے ان کا اچھا سلوک تھا تو وہاں بعض مولوی صاحبان بھی ایسے ہیں جن میں اللہ کے فضل سے شرافت ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مزید ہدایت دے۔شہید مرحوم شہادت کے وقت سیکرٹری تربیت نو مبائعین کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کو کئی تنظیمی اور جماعتی عہدوں پر خدمت کرنے کی توفیق ملی۔ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب شہید کی امارت کے دور میں ضلعی عاملہ کے ممبر رہے۔جو بھی نومبائعین آتے ان کے کھانے کا انتظام کرتے۔ان کے پاس کرایہ نہ ہوتا تو اپنی جیب سے کرایہ بھی دیتے۔