خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 54

خطبات مسرور جلد 12 54 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جنوری 2014ء کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتا ہے۔اگر زیادہ ہیں تو جو زیادہ گناہ ہیں وہ دل و دماغ میں بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ تو کوئی گناہ ہے ہی نہیں۔چھوٹی سی بات ہے یا ایسا معمولی گناہ ہے جس کے بارے میں کوئی زیادہ باز پرس نہیں ہوگی۔خود ہی انسان تصور پیدا کر لیتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 453 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 10 جولا ئی 1936 مطبوعہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) ابھی گزشتہ خطبوں میں شاید دو ہفتے پہلے ہی میں نے توجہ دلائی تھی کہ اسا علم سیکرز جو ہیں، وہ بھی یہاں آ کر جب غلط بیانی کرتے ہیں اور اپنا کیس منظور کروانے کے لئے جھوٹ کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں۔اور نہ صرف اپنا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کی ساکھ پر بھی حرف آ رہا ہوتا ہے۔لیکن مجھے کسی نے بتایا کہ خطبہ کے بعد یہاں سے ایک اسائلم سیکر وکیل کے پاس گیا اور وکیل صاحب بھی احمدی ہیں۔وہ بھی شاید خطبہ سن رہے تھے۔اور وکیل شاید کوئی جماعتی خدمت بھی کرتے ہیں۔اُس وکیل نے اس اسائلم لینے والے کو کیس تیار کرتے ہوئے غلط بیانی سے بعض باتیں لکھ دیں کہ یہ غلط باتیں بیچ میں ڈالنی پڑیں گی۔حالانکہ ان کا حقیقت سے دُور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔اور مؤکل کو کہہ دیا کہ اس کے بغیر کیس بنتا ہی نہیں۔پھر تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔اس لئے ایسی غلط بیانی کرنا ضروری ہے۔حالانکہ میں نے واضح طور پر بتایا تھا کہ کسی غلط بیانی اور جھوٹ سے کام نہیں لینا اور احمدیوں پر ظلموں کے واقعات تو ویسے ہی اتنے واضح اور صاف ہیں اور اب دنیا کو بھی پتا ہے کہ اس کے لئے کسی وکیل کی ہشیاری اور چالا کی اور جھوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔پس مربیان کو بھی اور عہدیداران کو بھی بار بار جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرنی ہوگی۔بار بار یہ ذکر کرتے چلے جانا ہوگا کہ کوئی گناہ بھی بڑا اور چھوٹا نہیں ہے۔گناہ گناہ ہے اور اس سے ہم نے بچنا ہے۔ہر جھوٹ جھوٹ ہے اور اس جھوٹ کے شرک سے ہم نے بچنا ہے۔اگر اپنا تعلق خدا تعالیٰ سے مضبوط ہے تو پھر فکر کی ضرورت نہیں۔نشان ظاہر ہوں گے اور انسان پھر دیکھتا ہے۔لیکن تلقین کرنے والوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اُن کی اپنی حالت بھی ایسے معیار کی ہو جہاں وہ اپنی قوت ارادی کے اعلیٰ معیاروں کی تلاش میں ہوں۔اور عملی طور پر بھی اُن کے عمل اور علم میں مطابقت پائی جاتی ہو۔اس زمرہ میں شمار نہ ہوں جو کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔بہر حال جماعتوں کو بار بار درسوں وغیرہ میں ایمان میں مضبوطی پیدا کرنے اور عملی حالت بہتر کرنے کے لئے علمی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔پس اگر ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں کام شروع کر دے تو ایک واضح تبدیلی نظر آ سکتی ہے۔