خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد 12 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 ستمبر 2014ء اور سونے چاندی کو باہر نہیں پھینک دیتا بلکہ ان اشیاء کو اور تمام کار آمد اور قیمتی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہو لیکن اگر گھر میں کوئی چوہا مرا ہوا دکھائی دے تو اس کو سب سے پہلے باہر پھینک دو گے۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ عزیز رکھتا ہے ان کی عمر دراز کرتا ہے اور ان کے کاروبار میں ایک برکت رکھ دیتا ہے۔وہ ان کو ضائع نہیں کرتا اور بے عزتی کی موت نہیں مارتا۔۔۔۔اگر چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہاری قدر کرے تو اس کے واسطے ضروری ہے کہ تم نیک بن جاؤ تا خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قدر ٹھہرو۔جولوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کے حکموں کی پابندی کرتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیروں کے درمیان ایک فرقان رکھ دیتا ہے۔یہی راز انسان کے برکت پانے کا ہے کہ وہ بدیوں سے بچتا ر ہے۔ایسا شخص جہاں رہے وہ قابل قدر ہوتا ہے کیونکہ اس سے نیکی پہنچتی ہے وہ غریبوں سے سلوک کرتا ہے، ہمسایوں پر رحم کرتا ہے، شرارت نہیں کرتا ، جھوٹے مقدمات نہیں بناتا، جھوٹی گواہیاں نہیں دیتا بلکہ دل کو پاک کرتا ہے اور خدا کی طرف مشغول ہوتا ہے اور خدا کا ولی کہلاتا ہے۔“ فرمایا کہ: ”خدا کا ولی بننا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے بدیوں کا چھوڑنا ، برے ارادوں اور جذبات کو چھوڑ نا ضروری ہے اور یہ بہت مشکل کام ہے۔اخلاقی کمزوریوں اور بدیوں کو چھوڑ نا بعض اوقات بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ایک خونی خون کرنا چھوڑ سکتا ہے، چور چوری کرنا چھوڑ سکتا ہے لیکن ایک بداخلاق کو غصہ چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے یا تکبر والے کو تکبر چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو جو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے پھر خود اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی عظمت کے لیے اپنے آپ کو چھوٹا بناوے گا خدا تعالیٰ اس کو خود بڑا بنا دے گا۔یہ یقیناً یا درکھو کہ کوئی بڑا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ کو چھوٹا نہ بنائے ( یعنی اپنے آپ کو چھوٹا نہ بنائے ) یہ ایک ذریعہ ہے جس سے انسان کے دل پر ایک نور نازل ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف کھینچا جاتا ہے۔جس قدر اولیاء اللہ دنیا میں گذرے ہیں اور آج لاکھوں انسان جن کی قدر و منزلت کرتے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو ایک چیونٹی سے بھی کمتر سمجھا جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال ہوا اور ان کو وہ مدارج عطا کئے جس کے وہ مستحق تھے۔تکبر، بخل، غرور وغیرہ بد اخلاقیاں بھی اپنے اندر شرک کا ایک حصہ رکھتی ہیں۔اس لیے ان بداخلاقیوں کا مرتکب خدا تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ نہیں لیتا بلکہ وہ محروم ہو جاتا ہے۔برخلاف اس کے غربت وانکسار کرنے والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مورد بنتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 400-401)