خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 561
خطبات مسرور جلد 12 561 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 ستمبر 2014ء انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ ایک بہت بلند دیوار پر چڑھ رہے ہیں اور جب وہ اس کی بلندی پر پہنچتے ہیں تو وہاں انہیں بہت سے پھول نظر آتے ہیں اور ان پھولوں کی دائیں جانب بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔خواب میں انہیں بتایا گیا کہ اگر تم نے اسلام سیکھنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا ہے تو ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ مگر انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔اب جبکہ انہوں نے ریڈیو احمد یہ نور ( احمد یہ ریڈیو کا نام نور ہے ) سننا شروع کیا تو ایک دن پھر انہیں یہ خواب آئی۔انہیں کہا گیا کہ احمد یہ ریڈیو کے جو لوگ ہیں۔ان میں شامل ہو جاؤ تو خدا تک پہنچ جاؤ گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بیعت کر لی۔اللہ تعالیٰ جب ایسے لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے تو ایسے واقعات سن کر ہم جو پرانے اور پیدائشی احمدی ہیں ہماری بھی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے کہ اپنی حالت کی طرف ہمیشہ نظر رکھیں۔اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔اپنی عملی حالتوں کو درست کریں جیسا کہ میں نے کہا۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری ستیاں ہمیں کہیں محروم نہ کرتی جائیں۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ احمدیت کے قافلے نے انشاء اللہ تعالیٰ آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔یہ تو آگے بڑھتا جائے گا۔پس بہت توجہ کی ضرورت ہے کہ ہم بھی ہمیشہ اس قافلے کا حصہ بنے رہیں۔باقی ایسے بھی واقعات ہیں جہاں احمدیت کے خلاف بڑے فتوے دیئے جاتے ہیں لیکن بعض دفعہ سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے موقع پیدا کرتا ہے کہ انہی فتووں کا نشانہ یہ فتوے حاصل کرنے والے بن جاتے ہیں۔مصر سے ہمارے ایک خاتون ہیں جہاد صاحبہ، کہتی ہیں کہ میرے والد صاحب ایک تنظیم اخوان المسلمین کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور اس کی اندھی تقلید کرتے تھے۔اسی تنظیم نے احمدیت کے نعوذ باللہ اسلام سے خارج ہونے کا ایک اور مصری تنظیم دارالافتاء سے فتویٰ نکالا تھا۔ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے ہمارے اقرباء کے سامنے ہم پر ایک جھوٹا الزام عائد کیا۔اس وقت میں نے انتہائی لا چارگی کے عالم میں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اپنے فضل سے ہماری تائید فرما اور اس سے انتقام لے جو جھوٹ بول کر حق بولنے کا دعویٰ کرتا ہے۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے ہیں تو کوئی نشان دکھا۔کہتی ہیں میں اس وقت شوال کے روزے سے تھی اور مغرب کی نماز کے قریب کا وقت تھا میں نے ٹی وی آن کیا کہ مصر کے حالات کے بارے میں خبریں سنوں تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ