خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 544 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 544

خطبات مسرور جلد 12 544 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء ہو کر نمازیں ادا نہیں کر سکتے اور یہاں نمازیں ادا کر کے مجھے احساس ہوا کہ میں باجماعت نماز نہ پڑھنے سے کتنا محروم رہا ہوں۔اس دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے کہا کہ مرکزی پریس کی ٹیم اور یو کے پریس کی ٹیم نے اچھا کام کیا ہے اور اس سال پہلی دفعہ جلسہ کی بہت بہتر انداز میں کوریج ہوئی ہے۔پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے۔اور احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام دنیا کو پہنچا ہے۔مرکزی پریس ٹیم کے رابطے سے دوسرے ممالک سے بھی پریس اور میڈیا کے لوگ آئے۔ان کے بھی اچھے تاثرات تھے جیسا کہ میں تاثرات میں ذکر کر چکا ہوں۔پریس کے ذریعہ سے تقریباً تیرہ ملین افراد تک یوکے میں ہی پیغام پہنچا ہے اور بعض اور جو ابھی آرٹیکل لکھ رہے ہیں، جو خبر میں دے رہے ہیں ان کی اطلاع نہیں آئی۔اندازہ ہے کہ اس ذریعہ سے تقریباً بارہ تیرہ ملین تک باہر کی دنیا کو یہ پیغام پہنچا۔اسلام کا تعارف پہنچا ہے اور تعلیم پہنچی ہے۔پریس کے ضمن میں یہ بھی کہوں گا کہ پریس میں مختلف مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں۔کوئی مذہب کو ماننے والے ہیں کوئی نہیں ماننے والے۔کچھ خدا کو ماننے والے ہیں کچھ نہیں ماننے والے جو یہاں آتے ہیں تو اس ماحول کو دیکھ کر پھر متاثر ہوتے ہیں۔ویسے بھی مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں، شامل ہوتے ہیں ان کے اپنے لباس ہوتے ہیں ان کی اپنی روایات ہیں بعض حیادار لباس تو پہن لیتے ہیں لیکن عورتوں میں سکارف وغیرہ نہیں ہوتا۔عورتیں عموماً جب ہمارے فنکشن میں آتی ہیں تو سکارف سر پر لے لیتی ہیں لیکن اگر نہ بھی لیں تو کوئی حرج نہیں۔ہم ان کو پابند نہیں کر سکتے۔لیکن ہمارے بعض مرد جو ہیں وہ زبردستی کرنے کے عادی ہیں۔سختی پر اتر آتے ہیں۔بی بی سی کی ایک نمائندہ آئی ہوئی تھیں۔ان کا سر نگا تھا۔ایک مرد نے جا کے پیچھے سے ان کے سر پر سکارف رکھ دیا۔وہ ہمارے احمدی کی واقف ہے۔جماعت کو جانتی ہے۔میرا انٹرویو لے چکی ہے اور وہاں بڑے حیادار لباس میں سکارف لے کر سر ڈھانک کے بیٹھی تھی لیکن اس وقت سکارف سر پہ نہیں تھا۔بہر حال انہوں نے اس مرد کی اس حرکت کو دیکھ کے ہنس کے ٹال دیا لیکن اپنے احمدی دوست کو کہنے لگیں کہ اگر کوئی اور عورت ہوتی تو غصہ بھی کر سکتی تھی۔غصہ کر سکتی تھی یا غلط تاثر لے سکتی تھی۔پس مردوں کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ ان کو داروغہ نہیں مقرر کیا گیا۔ان کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے۔ان کا کام نہیں ہے کہ غیر عورتوں کے سروں پر اوڑھنیاں ڈالتے پھریں۔مردوں کو غض بصر کا حکم ہے۔اپنا جو فرض ہے وہ پورا کریں۔غیر مسلموں یا اپنوں کو بھی زبردستی سر ڈھانکنے کا حکم کہیں نہیں ہے۔ایسے ہی شدت پسند مرد ہیں، بعض ایک دو ہمارے میں ہوں گے جو پھر اسلام کو بھی بدنام کرتے ہیں اور دین کو بدنام کرتے ہیں۔آپ