خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 540

خطبات مسرور جلد 12 540 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء وزاری سے دعائیں مانگنا ہم سب کے لئے باعث حیرت تھا۔پھر ایک رکن مایا صاحبہ جو ز اغرب یونیورسٹی میں مذاہب عالم میں سٹڈی کر رہی ہیں اور انہوں نے مجھ سے کئی سوال جواب بھی کئے۔وہ کہتی ہیں ان جوابوں سے میں بڑی مطمئن ہوئی ہوں۔میری کافی تسلی ہو گئی ہے۔کہنے لگے دیگر مسلمان اور دنیاوی رہنما بھی خلیفہ اسیح سے رہنمائی لیں تو بہت سارے مسائل پر امن طریقے پر حل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے سوال یہ کیا تھا کہ لوگ تہذیب یافتہ معاشرے میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود پھر تشدد کی طرف مائل کیوں ہیں، جہادی کیوں بن رہے ہیں؟ اس کا میں نے ان کو کافی تفصیل سے جواب دیا تھا۔بہر حال ان کی کافی تسلی ہوئی۔کروشیا سے انگلش اور فرنچ میں ماسٹرز کی طالبہ روبرٹا نے بھی مختلف مذاہب کے اکابرین اور امن کے حصول کے متعلق سوال کیا تھا۔پھر کہتی ہیں جواب سے میری بڑی تسلی ہو گئی۔بیٹی سے گیری گیتو (Gary Guiteau) جو کہ بیٹی میں منسٹری آف کلچر کے ڈائریکٹر ہیں، جلسے میں شامل ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک بیٹی سے پہلی بار کوئی بھی حکومتی نمائندہ جماعت احمد یہ کے اس عظیم الشان جلسہ میں شامل ہوا ہے۔مجھے اس جلسے میں شرکت کر کے بیحد خوشی محسوس ہوئی ہے۔آپ کا نظام دیکھ کر میں یہ بر ملا کہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ تمام دنیا کے لئے ایک مثالی جماعت ہے۔جلسے میں تمام رضا کاروں کو ایک خاص جذبے کے ساتھ کام کرتے دیکھ کر بہت حیرانگی ہوتی ہے اور رشک آتا ہے۔ان رضا کاروں میں سب شامل ہیں۔چھوٹے بڑے مرد وزن سب شامل ہیں۔بعد میں ان کو مسجد کا وزٹ بھی کرایا گیا۔مسجد میں یہ گئے تو بڑے احترام سے اپنے رنگ میں دعائیں کرتے رہے۔اس کے بعد پھر انہوں نے وہاں لمبا سجدہ بھی کیا۔پھر بعض نئے شامل ہونے والوں کے تاثرات پیش کرتا ہوں۔میکسیکو سے ایک خاتون یا نالو پیز ریخون (Yanna Lopez Rejon) کہتی ہیں کہ مجھے اس جلسے نے بہت سی چیزیں سکھائی ہیں۔مجھ پر نہ صرف اپنی زندگی کی حقیقت آشکار ہوئی ہے بلکہ مسلمان دنیا کی موجودہ حالت کی وجوہات کا بھی علم ہوا ہے۔مجھے قبل ازیں ایک کمیونٹی کا پتا چلا تھا کہ وہ بڑی متحد ہے اور اس کے مختلف ممالک میں سینٹر ہیں لیکن اب جلسے میں شامل ہو کر مجھے اندازہ ہوا ہے کہ یقیناً وہ جماعت احمدیہ کی طرح متحد نہیں ہے اور نہ ہی وہ کمیونٹی جماعت احمدیہ کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔پہلے میں سمجھتی تھی کہ جس فرقے سے میرا تعلق ہے وہی ٹھیک ہے لیکن جلسہ سالانہ کی تقاریر کے ذریعہ مجھے پتا چلا