خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 445
خطبات مسرور جلد 12 445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء خیالات فاسدہ و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہانتک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔پس جو خیالات بدلذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔دوسری شرط ندم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ بڑھاپے میں آ کر جبکہ قومی بیکار اور کمزور ہو جائیں گے آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہوگا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسدہ وتصورات بیہودہ کو قلع قمع کرے۔جب یہ نجاست اور نا پا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا۔اور جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا یہانتک کہ وہ سیئات اس سے قطعا زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔جیسے فرما یا آنَ الْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيعًا ( البقرة: 166)۔ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔خُلقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : 29) اس کی حقیقت ہے۔پس خدا تعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو کامل کر کے انسان کسل اور سستی کو چھوڑ دے اور ہمہ تن مستعد ہو کر خدا تعالیٰ سے دعا مانگے۔اللہ تعالیٰ تبدیلی اخلاق کر دے گا۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 138 تا 140 ) پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد ہے۔ان لوگوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے جو یہ کہتے