خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد 12 444 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جولائی 2014ء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیئے گئے امید افزاء پیغاموں کو سرسری نظر سے نہ دیکھے بلکہ جب سنے تو ان کا حصہ بننے کی ایک تڑپ دل میں پیدا ہو۔اور یہ تڑپ تبھی فائدہ مند ہوگی جب اس کے حصول کے لئے عملی قدم بھی اٹھائے۔اور عملی قدم وہی پھل لانے والے ہوتے ہیں، وہی کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں جوان اصولوں کے مطابق اور اس طریق پر چلتے ہوئے اٹھائے جائیں جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بنائے گئے ہوں۔پس بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع تر ہے۔بیشک رمضان میں نیکیوں کے کئی گنا ثواب ہیں۔بیشک رمضان رحمت اور مغفرت کے حصول اور جہنم سے ڈوری کا ذریعہ ہے لیکن ان باتوں سے مستقل فائدہ وہی اٹھانے والے ہوتے ہیں جو ایک لگن کے ساتھ اس کے حصول کی کوشش کریں۔پس ہم میں سے خوش قسمت ہیں وہ لوگ یا ہم میں سے خوش قسمت وہ لوگ ہوں گے جو اس رمضان کو رحمت اور بخشش کے حاصل کرنے اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بنالیں گے۔اور وہ ان کمزوریوں کو ختم کرنے والے ہوں، اپنے گناہوں سے ہمیشہ کے لئے بیچنے والے ہوں۔یہ رمضان ہمارے لئے وہ سنگ میل بن جائے جو ہمیشہ برائیوں سے دور رکھنے والا اور ہمیشہ نیکیوں کی طرف لے جانے والا بن جائے۔برائیوں سے نفرت ہمارے دلوں میں ایسی پیدا ہو جائے جو کبھی دوبارہ ہمیں ان برائیوں کی طرف مائل کرنے والی نہ ہو۔سچی توبہ کی طرف ہماری توجہ ہوا اور ایسی تو بہ ہو جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بناتی چلی جائے۔ان باتوں کا حصول کس طرح ہو سکتا ہے یا ایسی سچی توبہ کس طرح ہو سکتی ہے جو ہمیشہ گنا ہوں سے دور رکھے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔تو به در اصل حصول اخلاق کے لئے بڑی محرک اور مؤید چیز ہے (اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کردار کا مالک بننا ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب ہونا ہے تو تو بہ ہی ہے جو اس کے کام آ سکتی ہے۔اسی کی وجہ سے آدمی ترقی کرتا ہے۔یہی چیز ہے جو مددگار بنتی ہے۔فرمایا ” اور انسان کو کامل بنادیتی ہے۔یعنی جو شخص اپنے اخلاق سیہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ تو بہ کرے۔یہ بات بھی یا درکھنی چاہیے کہ تو بہ کے تین شرائط ہیں۔“ ( صرف تو بہ کرنے سے تو بہ نہیں ہو جاتی۔''بڑوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبتہ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی “۔اور وہ شرائط کیا ہیں۔فرمایا : ”ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جوان خصائل رڈیہ کے محرک ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصویری صورت رکھتا ہے۔پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان