خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 407
خطبات مسرور جلد 12 407 27 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 04 جولائی 2014 ء بمطابق 04 وفا 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 184) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ ہمیں پھر محض اور محض اپنے فضل سے ایک اور رمضان سے گزرنے کی توفیق عطا فرمارہا ہے۔یہ ایک مہینہ جو اپنی بے شمار برکات لے کر آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس مہینے میں تمہارے پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے۔کس لئے فرض کیا گیا ہے؟ کیا اس لئے کہ تم صبح سے شام تک بھوکے رہو؟ نہیں، بلکہ اس لئے کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔اصل چیز یہی تقویٰ ہے جو بے شمار برکات کا حامل بناتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔ہمیشہ روزہ دار کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔“ تبتل اور انقطاع کا مطلب ہے کہ خدا سے کو لگانا اور دنیاوی خواہشات کو پیچھے پھینک دینا۔گویا کہ ان دنوں میں ایسی حالت ہو کہ ان میں دنیا کی خواہشات سے تعلق تو ڑ کر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہر عمل اور کوشش ہو۔